سیرت حضرت اماں جان — Page 239
239 دہلی تشریف لے گئیں۔وہاں غیر متوقع آپ نے پندرہ بیس روز قیام کیا آپ کی غیوبت کی وجہ سے طبیعت میں بہت اداسی پیدا ہوگئی۔جب تشریف لائیں اور میں ملنے کیلئے گیا تو جوش محبت سے جی بھر آیا آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔اور میں نے کہا۔اماں جان! آپ نے تو کتنے ہی دن لگا دیئے؟ عبداللہ کو بھلا دیا ؟ فرمایا نہیں۔میں تو تمہارے لئے دہلی سے کھلونے لائی ہوں اندر سے مجھے تین بلوری کھلونے اور مٹھائی لا کر دی۔قادیان میں خربوزوں کے موسم میں ایک میلہ لگا کرتا تھا جسے قدموں کا میلہ“ کہتے تھے۔میں نے گھر کے بچوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا اماں جان ! میلہ دیکھنے کی اجازت دیں۔فرمایا عبداللہ میلوں میں واہیات باتیں ہوتی ہیں یہ نہیں دیکھنے چاہئیں۔پھر فرمایا اس میلہ میں تو خربوزے ہی سکتے ہیں جاؤ اور دیکھ آؤ۔اور ہم سب کو خرچ کرنے کے لئے پیسے بھی دیئے۔حضرت میاں شریف احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ والان کے صحن میں رات کو سٹڈی کر رہے تھے میں نے بھی کرسی لی اور اسی میز کے ایک طرف بیٹھ کر سٹڈی کرنے میں مصروف ہو گیا۔حضرت اماں جان نے میاں صاحب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : میاں ! جس طرح تم میرے تین بیٹے ہو عبداللہ میرا چوتھا بیٹا ہے۔۱۰۴ مکرمہ اہلیہ صاحبہ نشی کظیم الرحمن صاحب میں نے اپنے گھر قادیان میں گائے رکھی ہوئی تھی اور گائے سے متعلقہ کام میں خود اپنے ہاتھ سے سرانجام دیا کرتی تھی۔ایک دن میں صفائی کر رہی تھی کہ حضرت اماں جان تشریف لے آئیں۔مجھے دیکھ کر شرم آگئی۔فرمانے لگیں۔یہ کام تو بہت اچھے ہیں۔ایسے کام تو کرنے چاہئیں۔اس سے صحت اچھی رہتی ہے۔ہاتھ پاؤں میں چستی پیدا ہوتی ہے۔۱۰۵ از امتہ الحمید بیگم اہلیہ قاضی محمد رشید آف نوشہرہ غالباً ۱۹۳۵ء کی بات ہے میں مع اپنی خوشدامن صاحبہ مرحومہ اور والدہ مکرمہ کے حضرت اماں جان کی زیارت کے لئے گئی۔ہم نے دیکھا کہ حضرت اماں جان اپنے باورچی خانہ میں ایک بہت بڑی پرات میں بہت سا آٹا گوندھ رہی ہیں۔میری خوشدامن صاحبہ نے اس پر تعجب کا اظہار کیا کہ حضرت اماں جان آٹا گوندھ رہی ہیں۔اس پر اماں جان نے پنجابی زبان میں فرمایا ”میں رن نہیں منڈاواں، یعنی کیا میں عورت نہیں لڑکا ہوں؟ لیکن بعد میں ہمیں بتایا کہ آج یتیموں کی دعوت ہوئی ہے اس لئے میں خود اپنے ہاتھ سے آٹا گوندھ رہی ہوں۔۱۰۶