سیرت حضرت اماں جان — Page 224
224 مکرم شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی آپ کی شفقت و مہربانی حضرت اُم المؤمنین نوراللہ مرقدہ ہا بے شمارخوبیوں کی حامل تھیں۔لیکن جس امر سے ہر فرد بشر انتہائی متاثر ہوتا تھا۔وہ آپ کی بے نظیر اور عدیم المثال شفقت ہے جو آپ اپنے خادموں پر فرمایا کرتی تھیں۔آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔اور واقعی آپ کا وجود جماعت کے لئے ماں کا درجہ رکھتا تھا۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جس شفقت اور مہربانی سے آپ پیش آیا کرتی تھیں اس شفقت اور مہربانی سے مائیں بھی نہیں پیش آتیں۔ماں کی ساری محبت صرف اپنے بچے کے لئے مخصوص ہوتی ہے۔لیکن آپ کی شفقت سے ساری جماعت فیضیاب ہوتی تھی۔آپ کا دامنِ رحمت بڑا اوسیع تھا۔امیر اور غریب اب آپ کی نظر میں یکساں تھے۔آپ کی شفقت و محبت اور مہربانی کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔میں ایک ذاتی واقعہ عرض کرتا ہوں ۱۹۳۷ء میں خاکسار کی پیدائش کے ایک ماہ بعد جب والد صاحب محترم نے میرا عقیقہ کرنا چاہا۔تو حضرت ام المومنین سے شرکت کی درخواست کی۔آپ ان دنوں سونی پت ضلع رہتک میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کے پاس مقیم تھیں۔آپ نے بڑی خوشی سے اس درخواست کو قبول فرمالیا اور بمعہ حضرت میر صاحب وممانی جان سونی پت سے پانی پت تشریف لائیں۔خود اپنے دست مبارک سے کڑھی ہوئی ٹوپی مجھے مرحمت فرمائی ( یہ تبرک ٹوپی ۱۹۴۷ء تک بڑی حفاظت سے رکھی ہوئی تھی۔مگر افسوس اس وقت کی قیامت صغریٰ میں یہ بھی ہاتھ سے جاتی رہی۔جس کا مجھے انتہائی قلق ہے اور ہمیشہ رہے گا ) مجھے اپنے مقدس ہاتھوں میں لے کر میرے لئے دعا فرمائی اور تین روز تک قیام فرمایا۔پھر جب میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے قادیان آیا۔جب بھی۔ہمیشہ میرے ساتھ انتہائی شفقت کا سلوک فرماتی رہیں۔آپ تعلیمی اخراجات کے لئے ہر سال مجھے ایک سو روپیہ مرحمت فرمایا کرتی تھیں۔اور پاکستان آنے کے بعد بھی یہ سلسلہ اس وقت تک آپ نے جاری فرمائے رکھا۔جب تک میں تعلیم سے فارغ نہ ہو گیا آپ ایسی شفقت اور مہربانی کرنے والی ماں اب کہاں؟