سیرت حضرت اماں جان — Page 217
217 حضرت زینب بی بی صاحبہ اہلیہ حاجی محمد فاضل فیروز آبادی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں فیروز پور شہر سے قادیان آئی تو حضرت اماں جان کے لئے ایک تولیہ بسترے والا خود اپنے ہاتھ سے کات کر بنایا ہوا ساتھ لائی۔جس کے خوب سرخ ڈورے تھے اور کنی ڈالی ہوئی تھی۔وہ تولیہ حضرت اماں جان کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت اماں جان اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور تولیہ کی بہت تعریف کی اور اپنی خادمہ کو فر مایا کہ یہ تولیہ ابھی میرے بستر پر بچھا دو، مجھے دیسی کپڑا بڑا اچھا لگتا ہے۔میرا دل بہت ہی خوش ہوا کہ حضور اتنے بادشاہ ہیں اور ایک ادنی تحفہ بھی کسی غریب کو خوش رکھنے کے لئے قبول فرمایا۔۲۸ ایک دفعہ کا ذکر ہے۔کہ میں فیروز پور شہر سے قادیان دار الا ماں آئی۔تو میں دارالمسیح میں جا کر حضرت اُم المومنین کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئی۔تو وہاں میں نے حضرت اماں جان کی پاک صحبت میں کچھ عرصہ گزارانے کے بعد ان کی خدمت میں عرض کیا۔حضور دعا فرما دیں کہ ہم کو اللہ تعالیٰ اپنے گھر فیروز پور میں بھینس رکھنے کی توفیق عطا فرمادے۔تو حضرت ماں جان نے اس وقت ہاتھ مبارک اٹھا کر ہمارے لئے دعا فرمائی۔حضور کے دعا کرنے کے بعد میں نے اپنے دل میں پختہ ارادہ کر لیا۔کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھینس دے گا۔تو میں انشاءاللہ نذرانہ کے طور پر اس بھینس کا خالص گھی حضرت اماں جان کی خدمت میں پیش کروں گی۔گومولی کریم نے حضرت اماں جان کو اپنے فضل سے بہتیر ارزق دیا ہوا ہے۔مگر وہ خالص گھر کا گھی بہت پسند کرتی ہیں۔دو تین ماہ کے بعد جب جلسہ سالانہ آیا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت پر میں قربان جاؤں کہ جلسہ سے کچھ عرصہ پہلے ہم کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کی دعاؤں کے طفیل بھینس رکھنے کی توفیق دے دی۔تو میں اپنے ساتھ جلسہ سالانہ پر آئی۔تو فیروز پور سے وہ گھی والی نذر پوری کرنے کے لئے اپنے گھر کا گھی حضرت ماں جان کی خاطر ہمراہ لائی۔اور قادیان دارالاماں آکر ایک سینی میں رکھ کر حضور کے مکان پر حاضر ہو کر ان کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت اماں جان کو تو خدا کے فضل سے اپنے گھر میں کسی چیز کی پرواہ نہ تھی۔مگر اس عاجزہ کی خواہش کو منظور فرماتے ہوئے بڑے زور سے اونچی آواز میں جزاکم اللہ احسن الجز ا محبت سے کہا۔اور پھر فرمایا۔کہ میری پیاری زینب تم نے یہ کیوں تکلیف کی۔پھر اپنی خادمہ کو حکم دیا کہ زینب خالص گھی اپنے گھر سے لائی ہے۔اس کو علیحدہ رکھنا۔پھر نا چیز تحفے کو حضرت اماں جان کی خدمت میں پیش کر کے میں نے