سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 213 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 213

213 مضبوط ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سفر اور حضر میں خدمت کی سعادت بخشی۔تو حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھے اچھی طرح پہچان گئی تھیں۔۵۸ مکرمہ امۃ الرحیم صاحبہ بنت حضرت عبد الرحمن صاحب قادیانی حضرت سیدۃ النساء کی مہربانیاں یہاں تک بڑھی ہوئی تھیں کہ بیان کر ناممکن نہیں۔۱۹۳۳ء کا واقعہ ہے۔میرے شوہر محترم مرزا صاحب اپنی ملازمت سے رخصت پر قادیان تشریف لائے۔حضرت سیدۃ النساء کو بہت خوش ہوئی۔ایک دن اپنی خاص نگرانی میں کھانا تیار کرا کر حضور نے بطور ضیافت کے بھجوایا۔ہم گھر کے دو ڈھائی افراد تھے لیکن حضرت ممدومہ نے مختلف قسم کے لذیذ دار عمدہ کھانے اتنی مقدار میں بھجوائے کہ دس افراد کے لئے کافی تھے۔چنانچہ اس ضیافت سے میرے میکہ والوں نے بھی برکت حاصل کی۔۵۹ از حضرت زینب بی بی صاحبہ شروع شروع میں جب کہ ابھی ہمارا اپنا مکان قادیان دار الاماں میں تیار نہیں ہوا تھا۔شہر فیروز پور کی میونسپل کمیٹی میں سب اور سیری کی ملازمت تھی۔ملازمت سے رخصت لے کر قادیان دار الاماں میں رخصت گزارنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔اُن دنوں یہاں مکانات کی بڑی قلت تھی۔اس لئے حضرت اماں جان نے ہمیں میاں امام الدین صاحب عرف ماٹا کی گلی میں پختہ حویلی مرزا نظام الدین صاحب کے مکان کے دائیں طرف اپنا کچا مکان رہنے کیلئے دیا حضرت اماں جان کی یہ بڑی نیک عادت تھی۔کہ جو مہمان قادیان دارالاماں میں باہر سے آتے تھے۔ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔اس لئے ایک دن حضرت اُم المومنین ہمارا حال دریافت کرنے کے لئے ہمارے مکان میں آئیں۔اور حال دریافت فرمایا۔میری ان کے ساتھ اتنی بے تکلفی تھی۔کہ حضور ہمیشہ میرا نام لے کر مجھے بلایا کرتی تھیں۔فرمایا زینب تم کیا کر رہی ہو۔میں نے عرض کیا کہ میں اپنے بچوں کے کپڑے دھور ہی ہوں۔اس وقت محمد اعظم ابھی بچہ تھا۔اور وہ رور ہا تھا۔مجھے کپڑے دھونے کی حالت میں دیکھ کر فرمایا۔کہ باہر کے لوگ بڑے کفایت شعار ہوتے ہیں۔جو خود اپنے ہاتھ سے اپنے گھر کا سارا کام کاج کرتے ہیں۔اس لئے مجھے کام کرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔پھر حضور نے فرمایا۔کہ زینب تم کو اس مسافری میں کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔میں نے عرض کیا کہ