سیرت حضرت اماں جان — Page 210
210 اماں جان پر بہت ناز تھا اس لئے بچی کو میں نے آپ کی گود میں لٹا دیا اور عرض کی۔”اماں جان! جب آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی بات پتھر پر لکیر ہوتی ہے تو آپ میرے لئے ایسی باتیں نہ ارشاد فرمایا کریں بلکہ میرے لئے اچھی اچھی باتیں اپنی زبانِ مبارک سے ارشاد فرمایا کریں حضرت اُم المومنین نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کیا اور بچی کو گود ہی میں لے کر دعا فرمائی یا اللہ ! تو اس بچی کی آنکھوں کو جلد شفا بخش۔اور ساتھ ہی آپ دعائیں پڑھ پڑھ کر بچی کے چہرے پر پھونکتی جاتیں اور یہ الفاظ بار بارڈ ہراتی جاتیں۔یا اللہ ! تو اپنے فضل سے اس بچی کی آنکھیں محفوظ رکھے۔اور مجھے فرمانے لگیں۔تم اب اسے ہاتھ نہ لگا نا میں خود اس کا علاج کروں گی“۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کی دعاؤں کی برکت سے بچی کی آنکھوں کو دوسرے دن ہی شفا بخش دی۔اس بات کو میں ہی سمجھ سکتی ہوں کہ اُس وقت حضرت اماں جان کس بے چینی اور گھبراہٹ سے بچی کے لئے دعا فرمارہی تھیں اور اس دعا کا میرے دل پر کتنا گہرا اثر ہوا جو کہ کبھی مٹ نہیں سکتا۔اسی طرح ایک اور واقعہ ہے۔ایک دفعہ میں ایک بچے کی پیدائش سے قبل سخت بیمار تھی۔شدت کا بخار تھا اور جسم پر بہت ورم تھی۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اطلاع دی گئی تو آپ اُسی وقت میرے غریب خانے پر تشریف لے آئیں اور مجھے گلے لگا کر نہایت ہمدردی اور شفقت سے پیار کیا۔اس وقت آپ کی مبارک آنکھیں پر نم تھیں۔آپ فرمانے لگیں۔”میں نے تمہیں اس لئے تو نہیں پالا تھا کہ میں تمہارے یتیم پالوں۔اچھا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے فضل سے صحت دے تا کہ تم اپنے بچوں کی پرورش کر سکو۔اور اس کے تھوڑی دیر بعد آپ واپس تشریف لے گئیں۔مجھے معلوم ہوا کہ جاتے ہی حضرت اماں جان بیت الدعا میں تشریف لے گئیں اور کافی دیر تک دعا فرماتی رہیں۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کا معجزہ دیکھئے اُسی وقت اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف کم کر دی اور مجھے لڑ کا عطا فرمایا۔جب حضرت اماں جان کو اطلاع کی گئی تو فرمانے لگیں۔الحمد لله - ۵۶