سیرت حضرت اماں جان — Page 200
200 کہ ایک مرتبہ حضرت اماں جان نے مجھے یاد فرمایا اور فرمایا کہ یہ پکھی ہے اس کو گوٹہ کناری وغیرہ لگادو۔میں نے عرض کیا کہ کس طرح بناؤں۔آپ نے فرمایا کہ تمہیں سب طریق معلوم ہیں۔میں پیکھی تیار کر کے لے گئی۔آپ نے دیکھ کر بہت خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ معلوم ہے کہ یہ تم سے کس لئے بنوائی ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور کو ہی معلوم ہے۔فرمانے لگیں۔”مجھ کو شملہ جانا ہے رستہ میں اس پنچھی سے ہوا کروں گی۔اور اس کو دیکھ دیکھ کر تمہارے لئے دعا کروں گی اور واپسی پر بھی اسی طرح کروں گی۔میں یہ سن کر آپ کی شفقت، محبت اور اخلاق حسنہ سے بہت متاثر ہوئی۔اور کئی دن تک خاص طور پر آپ کے لئے میرے قلب سے دعا نکلتی رہی۔۴۴ قادیان میں جب ہمارا مکان دارلرحمت میں حضرت نانا جان میر ناصر نواب کی زیر نگرانی تعمیر ہور ہا تھا تو جب حضرت اُم المومنین مشہر سے حضرت نواب صاحب کی کوٹھی تشریف لاتیں ہمارے مکان کی طرف سے گزر کر اس کو دیکھتیں اور واپسی پر مجھے بتاتیں کہ میں نے آج آپ کا مکان دیکھا ہے۔اس کا فلاں حصہ بن چکا ہے اور فلاں حصہ بن رہا ہے۔غرض نہایت شفقت سے چھوٹی چھوٹی باتوں میں دلچسپی کا اظہار فرماتیں اور اپنے پاکیزہ اخلاق کا اظہار کرتیں۔جعــل الــلــه الجنة مثواها و اعلی الله درجا تها۔۲۵ جب ہم دارالرحمت کے مکان میں رہائش پذیر ہوئے تو دودھ خریدنے کا انتظام محلہ دارالعلوم میں مکرمی ماسٹر محمد علی صاحب اظہر کے گھر کیا۔ایک دن میں دودھ کا حساب کرنے اور رقم ادا کرنے کے لئے ماسٹر صاحب کے گھر جارہی تھی تو حضرت اماں جان سے سکول والی سڑک پر جاتے ہوئے ملاقات ہوئی۔حضرت اماں جان نے دریافت فرمایا کہ آپ کے محلہ میں دودھ کا انتظام نہیں ہوسکتا ؟ میں نے عرض کیا نہیں۔آپ نے فرمایا کہ خود بھینس رکھ لو۔میں نے عرض کیا کہ بچے چھوٹے ہیں دودھ دوہنے والا گھر میں کوئی نہیں۔آپ نے فرمایا خود دوہنا سیکھ لیں۔چنانچہ آپ کی توجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ایک بھینس میرے بھائی نے گاؤں سے بھیج دی۔جب بھینس نے بچہ دیا تو میں دوسرے دن دودھ لے کر حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔آپ بہت خوش ہوئیں۔پھر بعد میں مکھن بھی آپ کی خدمت میں پیش کرتی رہی۔آپ بہت خوشی کا اظہار فرما تھیں۔کہ اتنا زیادہ مکھن آپ کی بھینس دیتی ہے۔آپ نے جب کڑہی پکانی ہوتی تو کئی دفعہ نوکر کو بھیج کرسی ہمارے ہاں سے منگواتیں۔میں لسی