سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 190 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 190

190 آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔جب تک آنجناب خود مجھے اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں دیں گی۔اس لئے حضور آپ جہاں چاہیں مجھے لے جائیں۔یہ سن کر حضرت اماں جان نے میری اس سعادت مندی اور جرات کو دیکھ کر فرمایا۔کہ میں نے گلگتیوں کے مکان پر جانا ہے۔وہاں ان کی دوکان پر کپڑا جا کر دیکھنا ہے۔اگر وہاں جا کر مجھے کوئی کپڑا پسند آ گیا۔تو میں اپنی نواسی عزیزہ منصورہ بیگم کی قمیض کے لئے ایک ٹکڑ ا خریدنا چاہتی ہوں۔پھر میں حضرت اماں جان کے ہمراہ گلگتیوں کی دوکان پر گئی۔وہاں حضرت اماں جان نے تشریف لے جا کر ان کی دوکان کے کپڑوں کو دیکھا۔پھر ان کپڑوں میں سے ایک کپڑے کا ٹکڑا سبز رنگ کے مرینے کا آپ نے پسند فرمایا۔جو عزیزہ منصورہ بیگم میاں ناصر احمد کے لئے خریدا۔اور فرمایا۔کہ مجھے دیر ہوگئی ہے کہ میں نے بی بی منصورہ بیگم کو کوئی کپڑا نہیں دیا۔اس کے بعد یہ عاجزہ حضرت اماں جان کے ہمراہ روانہ ہوگئی اور حضور کو ان کے دولت خانے پر چھوڑ کر اپنے مکان فضل منزل پر آ گئی۔۳۰ دوسروں کی تکلیف کا احساس محترمہ آمنہ بیگم اہلیہ چوہدری عبداللہ خان صاحب رض ۱۹۴۶ء میں حضرت اماں جان خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ڈلہوزی تشریف فرما تھیں۔اتفاق سے میں بھی وہاں ہی تھی۔چودھری صاحب ان دنوں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ٹانگ کے اپریشن کے لئے گئے ہوئے تھے۔آپ اس خیال سے کہ میں گھبراتی ہوں۔اکثر میرے ہاں تشریف لے آتیں۔بعض دفعہ سارا دن تشریف رکھتیں۔چودھری صاحب کے لئے دعا فرماتیں۔اور خاص طور پر چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے لئے دعا فرماتیں اور مجھے بھی ان کے لئے دعا کرنے کی تاکید فرماتیں۔ایک دفعہ بچوں کو فرمایا: وضو کر کے آؤ۔اور نماز میں اپنے تایا ابا اور ابا کے لئے دعا کرو۔“ اکثر مجھ سے بھائی جان ( چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی صحت اور حالات دریافت فرما تیں۔ایک دفعہ قادیان میں میں سیدہ مریم صدیقہ کے صحن میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اتنے میں اماں جان