سیرت حضرت اماں جان — Page 189
189 عطیات بھی دیتی رہتیں۔اکثر دفعہ کام میں اُن کا ہاتھ بٹا تیں۔قادیان میں میں نے متعدد مرتبہ آپ کو باورچی خانہ میں بیٹھے ہوئے سبزی بناتے ہوئے یا ہنڈیا بھونتے ہوئے دیکھا اور ایک دفعہ میں اور عزیزہ صاحبزادی مسعودہ آصفہ نے مل کر مصالحہ تیار کیا اور حضرت اماں جان نے مرغابی پکائی اور پھر ہم نے ایک دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔سردار بیگم مرحومہ (جو آپ کی قدیم خادمہ تھیں) کی وفات کے دو تین دن کے بعد میں حضرت اماں جان کی زیارت کے لئے گئی۔سیڑھیاں طے کر کے حضرت اماں جان کے مکان کے دروازے میں ہی تھی کہ میرے کانوں میں آواز آئی ” کوئی اللہ میری سردار میں نے ادھر ادھر دیکھا۔کیا دیکھتی ہوں آپ حضرت ام ناصر احمد صاحب کے مکان کی طرف سے اپنے گھر تشریف لا رہی ہیں۔اس فقرہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو اپنی خادمہ سردار بیگم سے کتنا تعلق تھا۔اُس دن اُس نیک بخت خاتون کی قسمت پر مجھے بڑا رشک آیا۔۲۹ از حضرت حضرت زینب بی بی صاحبہ جب یہ عاجزہ شہر فیروز پور سے قادیان دارالامان آتی تھی تو حضرت اماں جان کی خدمت میں جا کر بیٹھنا بہت پسند کرتی تھی۔اور حضور کی زیارت اور قیمتی نصائح سے فیض یاب ہوتی تھی۔اُن دنوں ہمارا امکان قادیان دارالامان میں مسجد اقصیٰ کی پچھلی گلی میں فضل منزل نام کا بنا ہوا تھا۔ایک دفعہ جب میں حضور کی خدمت میں اپنے مکان سے آکر ان کے دولت خانے پر جا کر حاضر ہوئی تو حضرت اماں جان نے مجھے فرمایا۔کہ زینب تم کو فرصت ہے۔میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا۔کہ حضور کے سامنے فرصت کا کیا سوال ہے، جہاں حضور چاہیں بڑی خوشی سے حاضر ہوں۔اس میری بات کے سننے کے بعد حضرت اماں جان مجھے حضرت مسیح موعود کے بہشتی مقبرے کے باغ کی طرف لے گئیں۔پھر بہشتی مقبرے کے باغ میں جا کر ایک چکوترے کے درخت کے پاس آکر کھڑی ہوگئیں۔پھر آپ نے اس درخت سے ایک بڑے سائز کا چکوتر اتو ڑا اور ہم دونو و ہیں بیٹھ گئیں۔پھر وہ چکوتر احضرت اماں جان نے خود اپنے دستِ مبارک سے چھیلا۔اُس چکوترے کی قاشیں آپ نے خود بھی نوش فرما ئیں۔اور مجھے بھی عنایت فرما ئیں۔پھر اُس چکوترے کا پھل کھانے کے بعد بہشتی مقبرے سے فارغ ہو کر حضرت اماں جان نے فرمایا۔کہ زینب اب تم نے اپنے گھر جانا ہے یا میرے ساتھ چلنا ہے۔اس پر میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا۔کہ میں