سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 157 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 157

157 ہو گیا۔والدہ ماجدہ نے میرا تعلیمی شوق دیکھ کر مجھے جانے کی اجازت تو دیدی مگر ساتھ ہی تاکیدی طور پر نصیحت کی کہ دیکھنا احمدی نہ ہو جانا۔اور متفکر بھی بہت تھیں کیونکہ بھیجنے کی اپنے پرائے سب مخالفت کرتے تھے اور ڈراتے تھے۔میرے قادیان جانے کے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد حضرت خلیفہ المسح اول رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے۔انا للہ وانا اليه رَاجِعُون۔اور خلافت ثانیہ کا دور شروع ہوا اگر چہ میں اس وقت تک اپنے آپ کو کسی مصرف کا نہ پاتا تھا لیکن حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سایہ عاطفت میں آچکا تھا اور ” الفضل “ کے دفتر میں ایک نہایت معمولی سے کام پر مجھے لگا دیا گیا تھا۔حضور نے اپنے عہد مبارک کے پہلے ہی جلسہ سالانہ پر مجھ ناچیز پر غیر معمولی نوازش فرماتے ہوئے میر ا عقد مرزا محمود بیگ صاحب آف پٹی کی بھانجی ہاجرہ سے کر دیا تو میرے لئے موقع پیدا ہو گیا کہ میں والدہ ماجدہ کو قادیان آنے اور شادی کا کام سرانجام دینے کے لئے عرض کروں۔میں نے اس کے لئے کوشش کی اور آپ بخوشی تشریف لانے پر آمادہ ہو گئیں۔اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی اور مزید خوشی اس بات سے ہوئی کہ تایا صاحب جو قادیان کے نام تک سے بد کتے تھے وہ بھی آنے کے لئے تیار ہو گئے۔میں نے مقررہ تاریخ سے اطلاع دیدی اور والدہ ماجدہ شادی کی مناسب تیاری کے ساتھ معہ تا یا صاحب قادیان آگئیں۔قادیان پہنچنے کے دوسرے یا تیسرے دن والدہ صاحبہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لئے گئیں اور بس اس پہلی زیارت نے ہی آپ پر ایسا اثر کیا کہ احمدیت کی صداقت کی قائل ہو گئیں حالانکہ اس سے قبل احمدیت کے متعلق انہوں نے جو کچھ سن رکھا تھا اس سے بہت خوف زدہ تھیں۔حضرت اقدس کے گھر جانے اور خاص کر حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی زیارت کرنے کا تو انہیں بے حد شوق تھا مگر گھبراتی بھی بہت تھیں۔اپنی سادگی کی وجہ سے اپنے دیہاتی لباس کے باعث اپنی دیہاتی طرز گفتگو کے سبب ڈرتی تھیں کہ شاید کوئی بات ہی نہ کر پائیں۔لیکن میں نے بہت تسلی دی اور بتایا کہ دیہات کی عورتیں کثرت سے اپنے سادہ اور معمولی دیہاتی لباس میں حضرت ام المومنین اور دوسری خواتین مبارکہ کی زیارت کے لئے جاتی ہیں اور خوش و خرم آتی ہیں۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین تو الگ رہا کوئی اور بھی کسی قسم کی ناگوار بات کہے یہ ممکن ہی نہیں۔ساتھ کی عورتوں نے بھی ہر طرح تسلی دلائی اور والدہ صاحبہ چلی گئیں۔