سیرت حضرت اماں جان — Page 150
150 لیا ہوا تھا۔خلاف شرع کبھی کوئی کام نہیں کیا یعنی کسی دردناک موت پر بھی منہ سے اُف تک نہ کی نہ آواز نکالی۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب آپ کے بھائی تھے اور نہایت ہی لائق و فائق فرمانبردار بھائی یکے بعد دیگرے دونوں کی قادیان میں وفات ہوگئی مگر اس شاندار خاتون نے سوائے انا للہ کے کوئی لفظ بھی منہ سے نکالا ہو۔آہ ! اب اس چند روزہ زندگی میں ایسی بے نظیر اور شاندار خاتون کی زیارت کیا ہوگی۔اس چمن میں دیدہ ور پیدا ہونا ہی مشکل اور محال ہے۔اماں جان میں رحم کا مادہ بھی از حد تھا آپ جب قادیان میں تھیں۔کسی دن تو سحر کے وقت ہی اماں جان کی آواز آتی عائشہ آؤ سیر کو چلیں ( یہ عائشہ بھی ایک یتیم لڑکی تھی جسے اماں جان نے پرورش کیا ،شادی کی علیحدہ گھر دیا ، سامان دیا۔بھینس تک خرید دی۔اب بفضل خدا چارنو جوان برسر روزگار بچوں کی ماں ہے ) اماں جان کی ہمیشہ سے عادت یہ تھی کہ صبح نماز سے فارغ ہو کر باہر دو چار میل چلی جاتیں۔راستہ میں محلوں میں سے بعض مخلص خواتین جن کو معلوم ہوتا کہ اماں جان باغ میں یا فلاں طرف شاید تشریف لے جائیں گی تو وہ گھروں میں سے باہر نکل کر ساتھ ملتی جاتیں۔طبیعت شجاع اور بہادر تھی۔راستہ میں گاؤں بھینی یا منگل یا کھارا کی طرف سے دیہاتی عورتیں بھی اماں جان کو جھک جھک کر سلام کرتیں اور آپ ان کے گھروں بال بچوں وغیرہ کی خبر پوچھتی چلتی رہتیں اور یوں کوئی تھکان محسوس بھی نہ ہوتی۔دوسروں کے آرام کا خیال اماں جان کو ہر کسی کے آرام کا بھی خیال رہتا یعنی بھوک پیاس کا پوچھتیں۔اگر ذرا محسوس ہوتا کہ کسی کو پیاس لگی ہے تو اپنے مزارعوں میں سے کسی عورت کو بلا کر اس کے گھر سے دودھ لسی یا گنے کا رس ہی پلواتیں گو آپ کو کسی یارس یا کوئی ایسی ویسی چیز پیتے کھاتے ہم نے نہیں دیکھا۔ایک دفعہ آپ نے اپنے باغ میں آلو لگوائے تھے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم بھی لاہور یا شملہ سے آئی ہوئی تھیں تو ہم سب سیر کو باغ میں گئے۔اماں جان نے لڑکیوں کے لئے ( محترمہ عزیزہ امتہ الحفیظ بیگم کی بھی دلداری اور خاطر عزیز تھی تو ایک بہت بڑے رشتہ کی پینگ درخت پر ڈلوادی اور دوٹو کرے آلو ابال کر ساتھ روٹیاں اچار اپنے باغ میں سے لوکاٹ اتروا کر چٹنی تیار کروائی۔زمین