سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 149 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 149

149 جاسکوں۔اس فکر میں ہوں۔دعا اور رہنمائی کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔حضرت اماں جان نے درد سے پر مشفقانہ انداز میں فرمایا۔تمہیں کیا فکر میں جو ہوں۔یہ میری بیٹی میرے پاس رہے گی۔تم بے فکری سے اپنا کام کرو۔اللہ اللہ کیا کیا انعامات اور شفقتیں تھیں۔حضرت اماں جان کی غلام ابن غلام پر اور کیا جاذ بیت تھی۔ان پیارے منہ سے نکلے ہوئے پیارے کلمات کی۔ان پیارے الفاظ نے میری تمام مشکلات کو حل کر دیا۔چنانچہ پھر والدہ صاحبہ کامل سوا سال تک حضرت اماں جان کی خدمت میں ہی رہیں۔اور ان کو ایسا آرام ملا۔کہ مجھ سے اس قسم کا آرام ملنا مشکل تھا۔۲۱ شفقت اور مہمان نوازی کے واقعات حضرت سکینۃ النساء صاحبہ اہلیہ حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل تحریر کرتی ہیں: حضرت اماں جان رحمتہ اللہ علیہا کی صفات حسنہ اس قدر زیادہ ہیں کہ کئی اوراق لکھنے پر بھی ختم نہ ہوسکیں۔یوں بھی اخبار میں گنجائش کم ہوگی مگر ان کے وصال کا صدمہ دل حزیں پر اس قدر شدید ہے کہ جذبات خیال نے کچھ نہ کچھ لکھنے پر آمادہ کر ہی لیا۔اس لئے مختصر طور پر چندان کی عام عادات کا حال لکھتی ہوں جو آپ کی روزمرہ کی گویا خصوصیات تھیں اور بغیر کسی رکاوٹ کے گویا عادت ثانیہ بن چکی تھیں۔حضرت اقدس علیہ السلام کا اثر پاک اور کامل دینداری کا پر تو ایک خاتون ایک دہلی کی شہزادی پر پڑچکا تھا جس طرح کہ حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے لوگوں نے اور صحابہ کرام نے احادیث کا علم حاصل کیا اسی طرح حضرت اُم المومنین نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا نے اصل اسلام کے اخلاق حسنہ پر پورے طور پر عملدرآمد کر کر کے صحیح معنوں میں حضرت اقدس علیہ السلام کا حقیقی ساتھی اپنے آپ کو ثابت کیا۔عاجزی و خاکساری حضرت اماں جان میں غرور ہر گز نہیں تھا۔دنیا کی دولت یا مال کی یا نئے برتن خرید نے یا مکان اعلیٰ بنانے وغیرہ کی حرص کبھی نہیں کی۔غریبوں اور محتاجوں پر رحم فرما کر ان کی ہر طرح خبر گیری فرماتیں۔کئی یتیم بچوں اور بیواؤں کا کھانا کپڑا ضروریات بغیر کسی مطلب یا معاوضہ کے اپنے ذمہ