سیرت حضرت اماں جان — Page 148
148 حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔اور عرض کیا کہ اس کا کیا کروں۔فرمایا۔کہ زمین خرید کر یہاں قادیان مکان بنائو۔اور از راہ نوازش و شفقت خود حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مکرم کو فرمایا۔کہ اسے کسی ” قریب جگہ کا انتظام کر دیں۔“ چنانچہ پھر مجھے محلہ دارالفضل میں صاحبزادہ حضرت میاں شریف احمد صاحب کی کوٹھی کے قریب زمین عطا ہوئی اور وہاں پر ہی مکان بنا۔دارالامان کے عرصہ رہائش میں جب کبھی آنحضور پرنور کو سیر کی غرض سے احمد یہ فروٹ فارم میں تشریف لے جانے کا موقعہ ملتا۔تو از راہ تلطف آواز دے کر مجھے ہمراہی کا شرف بخشیں۔اور اپنی پیاری میٹھی میٹھی باتوں سے دوران سیر میں جوا کثر دینی باتیں اور تعلیم و تربیت کی ہوتیں فرماتیں۔جو میرے لئے تسکین قلب اور میری گھبراہٹ کے دنوں میں مشعل راہ کا کام دیتیں۔بچیوں کی تعلیم۔شادی بیاہ پر نہ صرف اپنے قیمتی مشوروں سے بلکہ مادی طور پر بھی زرکثیر سے ہمیشہ مجھے نوازا۔ނ والدہ صاحبہ کے علاوہ میں خود کو حضرت اماں جان کے احسانات میں دبا پاتا ہوں۔بچپن سے اب تک متواتر میری ہر مادی روحانی تکلیف میں مجھے اگر کوئی وجود اس قابل نظر آتا تھا کہ میں اس سے بے روک ٹوک بلا حجاب کہہ گزروں۔تو وہ حضرت اماں جان سکا وجود مبارک ہی تھا۔مشکل ے مشکل گھڑیوں میں میں نے حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوکر تکلیف دی اور حضرت اماں جان جو واقعی اُم المومنین تھیں نے پورے طور پر تعاون فرمایا۔اور حقیقی ماں سے بھی بڑھ کر صبر و استقلال کی تعلیم دیتے ہوئے تسلی و تشفی فرمائی۔اور ان کی اس تسلی و تشفی ملنے کی دیر ہوتی تھی کہ میں فکر سے خود کو آزاد سمجھتا تھا۔جیسا کہ کوئی فکر نہ تھا۔اور اس طرح ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار ہوا۔جس کا شمار بھی اب محال ہے۔سال گزشتہ ہی میں خانگی طور پر کچھ مشکلات درپیش تھیں۔اور ان میں سے ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ ربوہ میں کوئی مکان یا کوارٹر نہ ملنے کے باعث اور حافظ آباد ( جہاں مستقل آباد ہوں ) میں اکیلی اپنی والدہ کو بوجہ ان کے کمزور اور ضعیف ہونے کے چھوڑ نہ سکنے کے باعث کہیں باہر بے فکر ہوکر نہ جاسکتا تھا۔مجھے حضرت اماں جان کی خدمت میں حسب عادت حاضر ہوکر عرض کرنا پڑا۔کہ حضور والدہ کمزور اور نحیف ہیں۔چلنا پھرنا بھی ان سے مشکل ہے۔اکیلی رہ نہیں سکتیں۔یہاں ربوہ کوئی بندوبست نہیں۔کہ والدہ کو اکیلا چھوڑ کر باہر دورہ پر بے فکری سے