سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 147 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 147

147 آپ سب سے بڑی محبت اور اخلاص سے پیش آتیں۔اور بعض عورتیں حیرت سے ہم کو دیکھتیں کہ یہ کون ہیں جن کا اتنا خیال ہے۔بعض کو وہ خود ہی کہہ دیتیں کہ سیالکوٹ والے میر صاحب کی لڑکیاں ہیں۔۲۰ حضرت اماں جان کی شفقت و دلداری مکرم سید اعجاز احمد شاہ صاحب اپنی والدہ محترمہ اور اپنے بعض واقعات بیان کرتے ہیں: ہمارے گھر پر حضرت اماں جان کے ان گنت و بے شمار انعامات و احسانات ہیں۔آپ کا دست شفقت ہمارے گھر پر عملی طور پر اس وقت سے ہے۔جبکہ میری والدہ (اہلیہ اول سید احمد علی صاحب انبالوی ) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اپنے والد مولوی امام علی خاں صاحب آف سنور ریاست پٹیالہ کے ساتھ اپنی چھوٹی سی عمر میں قادیان دارالامان آئیں۔والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں۔کہ میرے ابا کی قادیان میں وہ پہلی آمد تھی اور تحقیق حق کی غرض سے تھی۔چنانچہ مجھے بوجہ چھوٹی عمر اور بچہ ہونے کے اندرون خانہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں رہنے کا موقعہ ملا اور میں نے خود کو اپنی ماں سے بھی زیادہ چاہنے والی شفیق ماں کی گود میں محسوس کیا۔یہی وجہ تھی کہ جب بھی دوران قیام میں والد صاحب نے مجھ سے پوچھا۔کہ بیٹی تجھے یہاں کسی قسم کی تکلیف تو نہیں۔تو میں نے اباجی کو جواب میں یہی کہا۔میرا دل تو یہاں لگ گیا ہے۔اور اب قادیان سے واپس جانے کو نہیں چاہتا۔والدہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ وہ زمانہ شاید ۱۹۰۳ء کا تھا۔۱۹۰۳ء سے لے کر اب ۱۹۵۲ء تک یعنی تقریباً نصف صدی تک حضرت اماں جان کا وہی سلوک رہا۔جو پہلے روز تھا۔اور اس شفقت میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں پڑا۔اور اسی نظر کرم کا طفیل تھا کہ پھر میں خود کوشش کر کے بھی کئی بار اپنے ابا مرحوم کے ہمراہ قادیان دار الامان حاضر ہوئی اور شادی کے بعد ۱۹۲۳ء سے اپنے بچوں کو قادیان میں رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دی۔مجھ پر میرے بچپن سے اب بڑھاپے تک جبکہ کئی ایک انقلابات سے مجھے دو چار ہونا پڑا۔ہمیشہ حضرت اماں جان کی شفقت اور ہمدردی و امداد نے مجھے سنبھالا۔اور بڑی سے بڑی مشکل میں بھی میرے قدم کبھی نہ ڈگمگائے۔مجھ پر اس مقدس وجود کی بے شمار شفقتیں ہیں۔۱۹۲۷ء میں مجھے میرے والد صاحب مرحوم کے ترکہ میں سے مبلغ سات صد روپیہ ملا۔میں ان مبلغات کو لے کر بغرض رہنمائی و مشورہ