سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 146 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 146

146 دوسروں کی تکلیف کا احساس اور مہمان نوازی مکرمہ حضرت سیدہ نعیمہ صاحبہ بنت حضرت سید میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ اہلیہ ڈاکٹر سید محمد اکرام صاحب ) تحریر کرتی ہیں: ۱۹۱۴ء دسمبر کے سالانہ جلسہ پر میں اور میری بڑی بھا وجہ سیدہ رفعت صاحبہ قبلہ ابا جان کے ساتھ گئیں۔اور چھ سات روز حضرت اماں جان کے پاس ہی قیام ہوا۔ابا جان کا قیام تو باہر تھا۔جلسے کی مصروفیت میں رہتے کسی دن ملاقات ہوتی۔ہم حضرت اماں جان کے پاس ہی رہیں۔رات کو وہیں اُن کے پاس اُسی کمرہ میں سونا۔رات کو بخاری جلتی۔اور پاس سب نے بیٹھ جانا۔اور بڑی محبت اور اخلاص سے پوچھنا سناؤ لڑکیو! دن کو کہاں کہاں گئیں۔کس کو ملیں کیا کچھ دیکھا۔ہم اپنی دن کی تمام رپورٹ دیتیں۔پھر یوں سوال جواب ہوتے۔رات کوا کثر سونے سے پہلے حضرت صاحب آپ کے پاس آتے یہ معمول تھا۔کچھ باتیں ہوتیں کچھ جلسے وغیرہ کی اور ہنسی مذاق کی باتیں بھی ہوتیں۔ایک دن حضرت صاحب نے کچھ اونچی آواز سے باتیں شروع کیں۔ساتھ ہنستے بھی جاتے۔تو آپ آہستہ فرمانے لگیں میاں آہستہ باتیں کرو۔میر صاحب کی لڑکیاں سورہی ہیں۔آپ نے کچھ حیرت سے کہا۔کون میر صاحب۔آپ فرمانے لگیں میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹ والے۔آپ نے فرمایا۔اماں جان ان کو ساتھ والے چھوٹے کمرے میں سلایا کریں۔یہاں سب نے آنا جانا ہوا۔ان کو تکلیف ہوتی ہوگی۔دوسرے دن ہم کو ساتھ کے چھوٹے کمرے میں سلایا۔آپ کا قیام ان دنوں مسجد مبارک کے ساتھ ہوتا تھا بڑے کمرے میں۔جب ہم کو علیحدہ سلایا تو اُن کا معمول تھا۔رات کو سونے سے پہلے ہمارے پاس آتیں۔اور کہتیں لڑکیو اچھی ہو کوئی تکلیف تو نہیں۔پھر صبح نماز کے بعد آتیں۔اور فرماتیں۔لڑکیو رات اچھی رہیں۔پھر صبح کو اپنے پاس سے ناشتہ بھیجتیں۔چائے کے ساتھ کبھی مٹھائی کبھی کھجوریں۔اتنی مہربانی اور پیار اور اخلاص سے برتاؤ کرتیں۔بعض وقت ہم کو شرم اور حجاب آتا۔ان کے پاس عورتوں کے آنے جانے کا تانتا لگارہتا۔امیر غریب سب آتیں۔