سیرت حضرت اماں جان — Page 141
141 مالی قربانیاں حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی سلسلہ کے لئے مالی قربانیوں کی فہرست بھی بڑی طویل ہے۔یہ وقت نہیں کہ ایک ایک کر کے اُن سب کو اس مختصر وقت میں گنو اسکوں اور یہ بتاؤں کہ کس طرح آپ نے اپنی آبائی جائدادوں کو بیچ کر منارة اسبیح کے چندہ میں حصہ لیا۔اور نصف صدی تک جماعت کی تقریباً ہر تحریک میں نمایاں طور پر شریک ہوتی رہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صدقہ خیرات کے دو پہلو ہیں اور اپنے اپنے وقت پر دونوں کا اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔صدقہ و خیرات کا ایک پہلو وہ ہوتا ہے جس میں اختفاء ہی اختفاء ہوتا ہے اور ا ظہار کا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔حضرت اماں جان کی ساری زندگی دا دور بہش سے معمور ہے اور اس میں ہزاروں واقعات ایسے ہیں کہ آپ نے دائیں ہاتھ سے دیا اور بائیں کو اُس کی خبر بھی نہ ہوئی۔اگر وہ لوگ جن سے آپ کی کرم فرمایوں کا یہ سلوک ہوا اُن کا ذکر نہ کرتے تو ہمیں ان کا علم بھی نہ ہوتا۔اور نہ معلوم نیکی اور حسن سلوک کے کتنے ہی وہ واقعات ہیں جو پردہ اخفا میں ہیں اور دنیا نہیں جانتی۔پھر صدقہ و خیرات اور مالی قربانیوں کا ایک پہلو وہ ہے جو اپنے اندر ایک گونہ ظاہر کا رنگ رکھتا ہے۔ایک کی قربانی دوسروں کے لئے نیکی کی تحریک کا موجب ہوتی ہے اور اسی لئے میں نے جماعت کے لئے آپ کی مالی قربانیوں کا ذکر کیا ہے۔عابدہ زاہدہ حضرت اماں جان حد درجہ عبادت گزار تھیں۔پنجگانہ نماز نہایت التزام کے ساتھ ادا فرماتی تھیں۔تجد آپ سے نہیں چھوٹتی تھی۔اشراق کی نماز بھی اکثر پڑھتی تھیں۔واقف کار بہنیں آپ کو بتائیں گی کہ کس طرح نماز مغرب کے بعد مصروف عبادت رہتی تھیں۔ہمہ وقت شکر الہی کے کلمات آپ کی زبان پر جاری رہتے تھے۔دعاؤں کی آپ بہت ہی عادی تھیں۔نماز نہایت خشوع و خضوع سے ادا فرماتی تھیں۔اس کمزوری کے عالم میں آپ کے سجدوں کی طوالت کو دیکھ کر بعض وقت خود اپنے اندر شرمساری محسوس ہونے لگتی۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ میں حضرت اُم المومنین کی سیرة