سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 129 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 129

129 تاریخ وصال حضرت اماں جان اعلیٰ اللہ در جانبا حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل تحریر فرماتے ہیں: آج کا دن (۲۱ اپریل) اپنی تمام محشر سامانیوں کے ساتھ ہم وابستگان دامن مہدویت پر طلوع ہوا۔العين تدمع والقلب يحزن انا لله واناالیه راجعون۔اور اس وقت مجھے آج سے ۴۵ سال قبل کا سانحہ ہو شر با یاد آرہا ہے جو اسی لاہور میں میری آنکھوں کے سامنے گزرا۔ایک با برکت وجود ہم سے پنہاں ہو گیا۔رحمة الله وبركاته عليكم يا اهل البیت۔یہ سارا مهینه دعا و درود و استغفار میں گزرا۔شب درمیان ۶/۷ اپریل میں نے دیکھا کہ مسجد کی محراب والی دیوار کے اوپر سے سفید کرنیں نکل رہی ہیں اور ان کی روشنی میں نظر آتا ہے کہ دیوار کریک (Crack) کھا گئی ہے۔اس کے بعد ایک مصرعہ تھا ع سیده نصرت جہاں بے غم ہوئی چونکہ آپ ہی کی فکر و تشویش میں سوتا تھا اس لئے بے غم سے یہ حسب تمنا و قلبی تعبیر کی کہ بیماری کی تکلیف جاتی رہے گی۔آج جب ریڈیو پر یہ خبر وحشت اثر سنی۔اس کے بعد دیر تک تو مبہوت سار ہا بعد ازاں ایک طرف لا خوف عليهم ولا هم يحزنون یاد آیا دوسری طرف معایه کہ حضرت والد ماجد نے میری والدہ ماجدہ (جن کا نام مریم بیگم تھا ) کی وفات پر مجھے بتایا کہ انکی وفات کا سال ” مریم بے غم سے ( قمری ہجری ۱۳۴۲) نکلتا ہے۔تب مجھے خیال آیا کہ کہیں اس مصرعہ کا بھی کچھ ایسا ہی مطلب ہو گا۔چنانچہ میں نے اعداد ابجدی گنے تو ۹۵۲ اسن عیسوی مطابق ۱۳۷۱ھ نکلے۔تو سبحان اللہ و بحمدہ زبان پر جاری ہوا۔اس کے بعد ۱۶/۱۷ اپریل کو میں نے دیکھا کہ ایک دیوار کی مرمت ہو رہی ہے اور ایک انجینئر محمد شفیع نام مجھے بتاتے ہیں کہ سائینٹفک طریق سے معلوم ہوا کہ بعض خاص حصے دیوار کے پختہ ہوں تو آجکل کی چھت بھی سلامت رہتی ہے اور دیوار بھی۔اس لئے آپ تعجب نہ کریں کہ کیوں خاص خاص جگہ بچہ کاری ہورہی ہے۔ایک سفید ریش والے بزرگ ہیں جن کے ہونٹ اور داڑھی کی سفیدی ہی میری نظروں میں ہے۔