سیرت حضرت اماں جان — Page 116
116 والدہ صاحبہ مرحومہ کے ہاتھ دیکھ کر اچانک فرمایا کہ تمہارے ہاتھ کیوں خالی ہیں ؟۔والدہ صاحبہ نے بتایا کہ میں نے کڑے بیچ کر دار الرحمت میں زمین خرید لی ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ تو اچھا کیا مگر تمہارے خالی ہاتھ مجھے اچھے نہیں لگتے۔پھر آپ نے سونے کی چوڑیاں جو آپ نے بمبئی سے نئی خریدی تھیں اپنے دست مبارک سے اتار کر والدہ صاحبہ کو پہنا دیں۔میں دیکھ رہی تھی، پہلے والدہ صاحبہ کا چہرہ خوشی سے چمک اُٹھا پھر ایک دم اماں جان کی طرف دیکھا، کچھ فکرمند ہو گئیں۔حضرت اماں جان نے فرمایا کوئی فکر نہ کرو جب روپے ہوں گے دے دینا۔مکان نصرت اماں جان کا ہی تھا اور شاید دس ماہ کا کرایہ قابل ادا ہو گا غالبا اماں مرحومہ کو یہی خیال آیا ہوگا۔واللہ اعلم۔وہ چوڑیاں اس کے بعد والدہ صاحبہ مرحومہ نے کبھی بھی نہیں اتاریں وفات کے بعد غسل دیتے ہوئے ہی اُتاری گئیں۔اب یہی چوڑیاں خاکسار کے ہاتھ میں ہے۔صرف حقیقی ماں ہی اپنی بیٹیوں کے لئے ایسا احساس رکھ سکتی ہے کہ ان کے ہاتھ خالی نہ ہوں۔حضرت اماں جان کی شفقت سب کے لئے ماں سے بھی بڑھ کر تھی۔پھر حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے والد صاحب اور سب کی خیریت دریافت فرمائی اور تھوڑی دیر تک ہمارے گھر میں تشریف فرمار ہیں بعد میں صحن کے دروازہ سے جو بہشتی مقبرہ کی طرف تھا وہاں سے تشریف لے گئیں۔شاید امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ بھی ساتھ تھیں۔میں بھی ساتھ ہی چلی گئی۔( میں اور سید امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ قریباً ہم عمر ہیں ) پہلے آپ نے مزار حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دعا کی تھوڑی دیر باغ میں سیر کر کے واپس تشریف لے گئیں۔کچھ اور عورتیں بھی ساتھ تھیں مگر اب مجھے یاد نہیں کون کون تھیں۔حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کبھی روزانہ اور کبھی دوسرے تیسرے دن ضرور باغ میں تشریف فرما ہوتیں اور ہمارے گھر بھی رونق افروز ہوتیں۔امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو اکثر والد ہ صاحبہ سے سلائی سیکھنے کے لئے وہیں چھوڑ جاتیں۔والدہ صاحبہ کو بہت ہی اچھا سلائی کا کام آتا تھا میں اور چھوٹی بیگم صاحبہ اکٹھی ہی سیکھا کرتی تھیں۔محلہ ناصر آباد کی بہت سی لڑکیاں بھی امتہ الحفیظ بیگم کا سن کر آ جاتیں۔حضرت اماں جان بھی بسا اوقات چار بجے تک وہیں تشریف رکھتیں۔ہم سب بچیاں آپ کے سامنے باغ میں کھیلتی رہتیں اور خوب پھل وغیرہ تو ڑ کر کھاتیں۔کچی لو کاٹیں ، آم اور گل گلیں تک تو ڑ کر نمک مرچ سے