سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 115 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 115

115 تھی۔خدا تعالی ان با برکت وجودوں کو اپنی جناب سے ہی اس صدمہ عظیم کی برداشت اور صبر جمیل عطا فرمائے اور آئندہ کوئی غم وفکران کے قریب نہ آنے دے۔آمین ثم آمین۔حضرت اُم المومنین کا تعلق اور لطف و کرم بھی ایک عجیب شان رکھتا تھا۔مجھے ہمیشہ یہی شوق ہوتا کہ میں حضرت اماں جان کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزاروں اور آپ مجھ سے کوئی خدمت لیں۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ہمیں اپنے ہر قسم کے کام کا بہت بے تکلفی سے حکم دیتیں اور اپنی خدمت کا موقع عطا فرما تیں رہتیں۔اپنے والدین کو بھی دیکھتے تھے کہ وہ حضرت اُم المومنین کی خدمت کو سب دوسرے کاموں سے زیادہ مقدم سمجھتے۔والد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی لاہور جاتے تو پہلے حضرت اُم المومنین کی خدمت میں حاضر ہوتے۔آپ نے اگر کچھ منگوانا ہوتا تو بتا دیتیں یا کوئی اور کام ہوتا تو اس کی ہدایت فرما دیتیں۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا برقع سینے کی سعادت تو ہمیشہ والدہ صاحبہ مرحومہ اور عاجزہ کو حاصل ہوتی رہی۔خدا تعالیٰ نے ہمیں بہت مبارک زمانہ عطا فرمایا آئندہ لوگ اس وقت کو ترسیں گے۔مگر ہم نے بھی زمانہ کی قدر کا جتنا حق تھا وہ ادا نہیں کیا۔کئی بار ایسا ہوا کہ میں حضرت اماں جان کا کوئی کام نہ کر سکتی تو نادم ہوتی۔مگر آپ بڑی شفقت اور خوش خلقی سے اس ندامت کا احساس بھی مٹادیتیں۔آپ کے احسانات تو ہم پر بے شمار ہیں مگر ان کا لکھنا اور ترتیب دینا بہت مشکل ہے۔غالباً پہلی جنگ عظیم کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ العز یز حضرت اماں جان اور سب خاندان والے بمبئی تشریف لے گئے تھے۔جب بمبئی سے واپس تشریف لائے تو حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا حسب معمول اپنے باغ میں تشریف لائیں (ہم لوگ ان دنوں آپ کے باغ والے مکان میں رہتے تھے۔) آپ چبوترے کی طرف سے بڑے کمرے کے دروازہ سے تشریف لائیں۔والدہ صاحبہ وہیں بیٹھی کچھ کام کر رہی تھیں ، آپ کو دیکھ کر کھڑی ہو گئیں۔میں بھی وہیں تھی۔اماں جان نے دروازے میں قدم رکھتے ہی اپنی بلند و شیر میں آواز میں فرمایا۔السلام علیکم عزیزہ کی اماں والدہ صاحبہ نے مصافحہ کیا۔میں نے بھی سلام عرض کیا تو آپ نے