سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 114 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 114

114 مریمی صفات اور مسیحی نفس سے دنیا کو پاک کیا اور پہلے مسیح کی نا کامی کا بدلہ لیا اور شیطان کو راستہ سے ہٹا دیا اور کامیابیوں کے دروازے کھول دیئے۔۱۹۲۹ء کا واقعہ ہے جبکہ ہمارا مثیل مسیح معہ اپنی والدہ کے کشمیر گیا ہاں اس وقت گیا جبکہ مستریوں نے گندہ دہانی سے سے دلوں کو سخت مجروح کیا تھا جب اُس مقام پر قیام پذیر ہوئے جس کو پہل گام کہتے ہیں۔جو کہ ایک سرسبز ٹیلہ ہے جس کی دو ڈھلوانوں کے نیچے دو شفاف چشمے بہتے ہیں تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ غالباً یہی میدان کشمیر ہے جس کو ذکر قرآن میں وَاوَيْنَا هُمَا إلى رَبُوَ۔۔۔۔میں کیا گیا ہے اس وقت ہمارا مسیح اپنی والدہ سمیت مستریوں سے سخت تکلیف اٹھا کر آیا ہے اور آرام لے رہا ہے۔غالباً پہلا مسیح بھی اسی جگہ پر آرام پذیر ہوا ہو گا۔۱۳ شفقت ہی شفقت شـ مکرمہ محترمہ رضیہ بیگم صاحبہ بنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب رضی اللہ عنہ تحریر کرتی ہیں: آج حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے بے شمار بچوں کو غمگین اور حسرت زدہ چھوڑ کر مالک حقیقی کے پاس پہنچ گئیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا لَيْهِ رَاجِعُون بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر میں تو آپ کی شفقت اور محبت مادرانہ کی وجہ سے اپنے آپ کو آپ کی بیٹی ہی سمجھتی رہی ہوں۔بچپن میں بھی اسی یقین کی وجہ سے ایک فخر سا پیدا ہو گیا تھا۔اُس وقت یہ سمجھ ہی نہ تھی کہ حضرت اماں جان تو ہزاروں لاکھوں مومنوں کی ماں ہیں۔آپ کی شفقت و محبت بہت وسیع ہے۔بچپن تو غفلت اور بے فکری کا زمانہ تھا مگر جب مصائب و رنج وغم کا وقت آیا، خصوصاً جب والد صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو وہ وقت بھی حضرت اماں جان کی شفقت و نصائح کی وجہ سے قابلِ برداشت ہو گیا۔میری والدہ مرحومہ بھی بہت صابر و شاکر ، بہت مومن مخلص و دلیر خاتون تھیں اور ان کو حضرت اماں جان مرحومہ سے خصوصاً اور سب خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عموماً والہانہ عشق تھا۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سے تو بے حد محبت