سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 112 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 112

112 اشکر نعمتی رایت خدیجتی یعنی اے ہمارے مسیح تو میری نعمت کا شکر یہ ادا کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پالیا یعنی سیدہ رضی اللہ عنہا کو حضور مسیح موعود علیہ السلام کے نکاح میں دلائے جانے کو اپنی نعمت قرار دیتا ہے۔اور اس پاک وجود کو اپنی خدیجہ قرار دیتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ خود مجازی باپ بن گئے ہیں اور اپنا احسان جتاتے ہیں کہ میں نے اپنی خدیجہ کو تیرے نکاح میں لانا تیرے نصیب کیا ہے کیا ہی مرتبہ ہے اس خاتون کا۔ایک وہ خدیجہ تھیں اور کیا ہی پاک وجود تھیں جنہوں نے ایک یتیم کو اپنے نکاح کے لئے چن لیا جو بڑا ہی قابل ستائش فعل ہے لیکن وہاں زیادہ احسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظر آتا ہے کیونکہ ایک عمر رسیدہ اور بیوہ خاتون کو اپنے نکاح کے لئے منظور کر لیا۔لیکن ہماری اس خدیجہ نے اپنے لئے زیادہ عمر کے اور گاؤں کے رہنے والے شخص کو منظور کر لیا۔ذریت طیبہ چھٹا احسان آں سیدہ کا ہم پر یہ ہے کہ جس طرح حضرت آدم صفی اللہ آدم اول کو اپنی زوجہ سمیت جنت میں سکونت پذیر رہنے کا حکم ملا تھا جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے یا آدم اسکن انت و زوجك الجنة۔یہی حکم آدم ثانی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کے حضور سے ملا کہ یا آدم اسکن انت وزوجك الجنة ليكن آدم صفی اللہ کی زوجہ نے ممنوعہ پھل کھا لیا اور اپنے اور اپنے شوہر کے جنت سے نکلنے کا موجب بنیں۔لیکن آدم ثانی کی زوجہ مطہرہ نے نہ صرف ممنوعہ پھل سے اجتناب ہی کیا بلکہ اُس کے مقابل پر اپنے گھر کو اپنے شوہر کے لئے جنت بنائے رکھا اور ایسے پانچ شیریں پھلوں کا تحفہ دیا کہ جن کی شیرینی سے دنیا جہاں محفوظ ہورہا ہے انہیں پھلوں کے ذریعہ اُس شیطان کا زور کچلا جائے گا جس نے آدم اول کو اذیت پہنچائی تھی اور اُس سے پورا بدلہ لیا جائے گا۔ان پھلوں میں سے ایک پھل محمود ہے جس کا مقام نہایت ہی ارفع ہے جس کے دست مبارک سے آج اسلام دنیا جہاں میں از سر نو قائم ہورہا ہے جو کہ مظہر ہے آنحضرت کی اس تجلى كا جس كو عسى ان يبعثك ربك مقاماً محمودا ، میں بیان کیا گیا ہے اور جو کہ پورا کرنے والا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمودہ کو جُــــــت لِي الْأَرْضُ