سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 98 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 98

98 ایک لڑکی تھی۔مجھے یاد ہے میں ان دنوں حضرت اماں جان کے پاس تھی۔وہ رات کو تہجد کے وقت سے اٹھ بیٹھتی۔اور حضرت اماں جان سے سوالات کرنے اور لفظوں کے معنے پوچھنا شروع کرتی۔اور آپ اس کی ہر بات کا جواب صبر اور خندہ پیشانی سے دیا کرتیں۔میں نے اس کو سمجھایا کہ اس وقت نہ ستایا کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آپ نے بہت زیادہ صبر وقتل کا نمونہ دکھایا۔مگر آپ کی جدائی کو جس طرح آپ محسوس کرتی رہیں۔اس کو جو لوگ جانتے ہیں وہ اس صبر کو اور بھی حیرت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔آپ اکثر سفر پر بھی جاتی تھیں اور بظاہر اپنے آپ کو بہت بہلائے رکھتی تھیں۔باغ وغیرہ یا باہر گاؤں میں پھرنے کو بھی عورتوں کو لے کر جانا یا گھر میں کچھ نہ کچھ کام کرواتے رہنا کھانا پکوانا اوراکثر غرباء میں تقسیم کرنا (جو آپ کا بہت مرغوب کام تھا ) لوگوں کا آنا جانا ،اپنی اولاد کی دلچسپیاں یہ سب تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد پورا سکون آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا۔صاف معلوم ہوتا تھا کہ کوئی اپنا وقت کاٹ رہا ہے۔ایک سفر ہے جس کو طے کرنا ہے۔کچھ کام ہیں جو جلدی جلدی کرنے ہیں۔غرض بظاہر ایک صبر کی چٹان ہونے کے باوجود ایک قسم کی گھبراہٹ سی بھی تھی۔جو آپ پر طاری رہتی تھی۔مگر ہم لوگوں کے لئے تو گویا وہ ہر غم اپنے سینہ میں چھپا کر خود سینہ سپر ہو گئی تھیں۔دل میں طوفان اس درد جدائی کے اٹھتے۔اور اس کو دبا لیتیں اور سب کی خوشی کے سامان کرتیں۔مجھے ذاتی علم ہے کہ جب کوئی بچہ گھر میں پیدا ہوتا تو خوشی کے ساتھ ایک رنج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جدائی کا آپ کے دل میں تازہ ہو جاتا۔اور وہ آپ کو اس بچہ کی آمد پر یاد کرتیں۔میں اپنے لئے دیکھتی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد ایک چشمہ ہے بے حد محبت کا جو اماں جان رضی اللہ عنہا کے دل میں پھوٹ پڑا ہے۔اور بار بار فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے ابا تمہاری ہر بات مان لیتے اور میرے اعتراض کرنے پر بھی فرمایا کرتے تھے کہ لڑکیاں تو چار دن کی مہمان ہیں۔یہ کیا یاد کرے گی جو یہ کہتی ہے وہی کرو۔غرض یہ محبت بھی دراصل حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کی محبت تھی جو آپ کے دل میں موجزن تھی۔اس کے بعد میری زندگی میں ایک دوسرا مرحلہ آیا یعنی میرے میاں مرحوم کی وفات۔ان کے بعد