سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 95 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 95

95 ہر وقت ہر کھانے پر خیال رہتا تھا کہ یہ میرے بشریٰ (حضرت مجھلے بھائی صاحب، صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب) کی پسند ہے کوئی دے کر آئے۔ان کو بھی اہتمام سے ان کے شوق کی چیز تیار کروا کر بھجواتی رہتی تھیں۔ذرا خاموش سادیکھتیں تو پریشان ہو جاتی تھیں۔یہ مضمون بہت لمبا ہو سکتا ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں تو نکلتی چلی آئیں گی۔اب ایک واقعہ تحریر کرنے کے بعد بند کرتی ہوں۔اپریل ۱۹۵۲ء میں وفات سے کوئی دو یا تین روز ہی پہلے کی بات ہے ضعف بے حد طاری ہو چکا تھا۔ہر وقت غفلت طاری رہتی تھی بس ایک سانس تھا جو گویا حکم الہی کا منتظر چل رہا تھا۔ہم لوگ ( عورتیں ) خدمت میں اندر حاضر رہتے اور حضرت منجھلے بھائی صاحب اور دیگر مرد و افراد خاندان، برآمدے میں ہوتے۔حضرت منجھلے بھائی صاحب کو بے حد تڑپ تھی کہ کسی وقت حضرت اماں جان آنکھیں کھولیں تو میں مل لوں ایک دفعہ میں نے ہشیار دیکھ کر ان کو جلدی سے اندر بلا لیا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئے طبیعت پوچھی حسب معمول اچھی ہوں کہا مگر جب وہ اُٹھ کر چلے گئے تو مجھے آہستہ سے کہنے لگیں کہ شریف کو چائے پلوا دواس کے سر میں درد نہ ہو جائے یا تو اس ضعف کی حالت میں حضرت منجھلے بھائی صاحب کو چھوٹے بھائی صاحب (حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ) سمجھایا اُن کے بھی دیکھنے کی خواہش ہوگی اور خیال کیا کہ وہ بھی باہر ہوں گے اور آگئے ہوں گے۔وہ لا ہور تھے اور علیل تھے اس وقت تک پہنچ نہ سکے تھے یا آکر دوبارہ جاچکے تھے غالبا کیونکہ یہ واقعہ بہت ہی وفات کے قریب کے وقت کا ہے۔اس سے آپ لوگ اس بے نظیر مادری محبت کا اندازہ کریں کہ گویا آخری دم ہیں اور شریف کے سر درد اور ان کی چائے کا فکر ہے۔ہزا ر ہا ہزار رحمتیں تا ابد آپ پر ہر لمحہ نازل ہوتی رہیں یا امی یا اُم المومنین۔آمین۔فقط۔مبارکہ