سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 93 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 93

93 حقیقی والدین کی مانند ان کی خوشیاں پوری کیں۔بھائیوں کی دل و جان سے چاہنے والی بہن اور ان کے دکھ درد کی شریک بنی رہیں۔تمام میکے اور سسرال کے عزیزوں سے جیسا بھی وقت تھا۔سخنے و در مے ہر طرح نیک سلوک کیا۔ظاہر و خفیہ اعزاء کی ہر صورت امداد پر کمر بستہ رہیں۔نیک کام میں سبقت لے جانے اور جلد سے جلد حصہ لینے کی آپ کو تڑپ اور خوشی ہوتی تھی۔دین لین حساب کتاب میں نہایت محتاط اور از حد درجہ مستعد مزدور کی مزدوری ہو یا چیز لانے والے کا حساب آپ اس کی ادائیگی میں اتنی جلدی فرماتیں کہ اکثر لینے والا بھی نادم ہو جا تا یا گھبرا جا تا کئی بار ایسا ہوتا کہ سامان لانے والے تو کہہ رہے ہیں کہ اماں جان ابھی لے لیں گے۔ذرا ٹھہریں تو سہی اور آپ رقم پکڑا رہی ہیں کہ نہیں ابھی سنبھالو۔صبر ورضا آپ کا اظہر من الشمس ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس کی شہادت دے دی۔شفقت اولاد آپ کی شفقت بر اولاد کا ذکر بظاہر چھٹ گیا ہے۔مگر نہیں میں نے عمداً اس کو بعد میں رکھا ہے کیونکہ اس کا خالص ذاتی احساسات سے تعلق ہے۔آپ بہترین ماں تھیں آپ کا پُر از محبت سینہ صافی نازک ترین مادرانہ جذبات کا حامل تھا۔اتنا پیارا تنا خیال آخر ضعیفی کی عمر تک شاید ہی کسی ماں سے اولادکو ملا ہو گا۔سب جانتے ہیں کہ جب انسان زیادہ ضعیف اور قومی کمزور ہو جاتے ہیں تو اس کے تمام فطرتی جذبات بھی قدرے ڈل ہو جاتے اور سست پڑ جاتے ہیں ایک جمود اور بے حسی سی طاری ہو جاتی ہے۔بوڑھے والدین خود بچہ صفت ہو جاتے ہیں اور اپنے لئے ہی قدرتاً سہارے کے خواہاں ہوتے ہیں مامتا کا رنگ بدل جاتا ہے۔مگر حضرت اماں جان کی مامتا ان کی اپنی اولاد کے لئے درد اور تڑپ اور اب تک ننھے بچے کی طرح ہم لوگوں کی چھوٹی چھوٹی تکالیف کا احساس اور خیال یہ نمونہ شاید ہی کہیں نظر آ سکے دعاؤں پر زور تو تربیت حضرت مسیح موعود کے زیر اثر اور اس ایمان کامل کے نتیجہ میں ایک ضروری اور لازمی امر تھا ہی اور ہمارے لئے کیا میں نے آپ کو اپنی روحانی اولاد میں سے اکثر کے لئے ایسا تڑپ کر ایک آہ کے ساتھ پکار کر دعا کرتے سنا ہے کہ شاید کبھی ان کی اپنی ماں نے نہ کی ہوگی۔