سیرت حضرت اماں جان — Page 84
84 کے سر پر کھڑے ہو کر صفائی کرواتی تھیں اور ان کے پیچھے لوٹے سے پانی ڈالتی جاتی تھیں۔گھر میں اپنے ہاتھ سے پھولوں کے پودے یا سیم کی بیل یا دوائی کی غرض سے گلو کی بیل لگانے کا بھی شوق تھا اور عموماً انہیں اپنے ہاتھ سے پانی دیتی تھیں۔عیادت مریض مریضوں کی عیادت کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی کسی احمدی عورت کے متعلق یہ سنتیں کہ وہ بیمار ہے تو بلا امتیاز غریب و امیر خود اس کے مکان پر جا کر عیادت فرماتی تھیں اور آنحضرت علیہ کی سنت کے مطابق تسلی دیا کرتی تھیں کہ گھبراؤ نہیں خدا کے فضل سے اچھی ہو جاؤ گی۔ان اخلاق فاضلہ کا یہ نتیجہ تھا کہ احمدی عورتیں حضرت اماں جان پر جان چھڑ کتیں تھیں اور اُن کے ساتھ اپنی حقیقی ماؤں سے بھی بڑھ کر محبت کرتی تھیں۔اور جب کوئی فکر کی بات پیش آتی تھی یا کسی امر میں مشورہ لینا ہوتا تھا تو حضرت اماں جان کے پاس دوڑی آتی تھیں۔اس میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ حضرت اماں جان کا مُبارک وجود احمدی مستورات کے لئے ایک بھاری ستون تھا بلکہ حق یہ ہے کہ اُن کا وجود محبت اور شفقت کا ایک بلند اور مضبوط مینا ر تھا جس کے سایہ میں احمدی خواتین بے انداز راحت اور برکت اور ہمت اور تسلی پاتی تھیں۔میری خوشی اسی میں ہے کہ خدا کے منہ کی بات پوری ہو مگر غالباً حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے تقویٰ اور توکل اور دینداری اور اخلاق کی بلندی کا سب سے زیادہ شاندار اظہار ذیل کے دو واقعات میں نظر آتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض اقرباء پر اتمام محبت کی غرض سے خدا سے علم پا کر محمدی بیگم والی پیشگوئی فرمائی تو اس وقت حضرت مسیح موعود نے ایک دن دیکھا کہ حضرت اماں جان علیحدگی میں نماز پڑھ کر بڑی گریہ وزاری اور سوز وگداز سے یہ دعا فرمارہی ہیں کہ خدا یا تو اس پیشگوئی کو اپنے فضل اور اپنی قدرت نمائی سے پورا فرما جب وہ دُعا سے فارغ ہوئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن سے دریافت فرمایا کہ تم یہ دعا کر رہی تھیں اور تم جانتی ہو کہ اس کے نتیجہ میں تم پر سوکن آتی ہے؟ حضرت اماں جان نے بے ساختہ فرمایا: ”خواہ کچھ ہو مجھے اپنی تکلیف کی پرواہ نہیں میری خوشی اسی میں ہے کہ