سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 85 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 85

85 خدا کے منہ کی بات اور آپ کی پیشگوئی پوری ہو۔“ دوست سوچیں اور غور کریں کہ یہ کس شان کا ایمان اور کس بلند اخلاقی کا مظاہرہ اور کس تقویٰ کا مقام ہے کہ اپنی ذاتی راحت اور ذاتی خوشی کو کلیۂ قربان کر کے محض خدا کی رضا کو تلاش کیا جا رہا ہے ! اور شاید منجملہ دوسری باتوں کے یہ اُن کی اسی بے نظیر قربانی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مشروط پیشگوئی کو اُس کی ظاہری صورت سے بدل کر دوسرے رنگ میں پو را فر ما دیا۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی (اور یہ میری آنکھوں کے سامنے کا واقعہ ہے) اور آپ کے آخری سانس تھے تو حضرت اماں جان نَوَّرَ اللَّهُ مَرْقَدَهَا وَرَفَعَهَا فِي أَعْلَى علتین آپ کی چار پائی کے قریب فرش پر آ کر بیٹھ گئیں اور خدا سے مخاطب ہو کر عرض کیا کہ : خدایا ! یہ تو اب ہمیں چھوڑ رہے ہیں مگر تو ہمیں نہ چھوڑ یو۔“ یہ ایک خاص انداز کا کلام تھا جس سے مراد یہ تھی کہ تو ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔اور دل اس یقین سے پُر تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔اللہ اللہ ! خاوند کی وفات پر اور خاوند بھی وہ جو گو یا ظاہری لحاظ سے اُن کی ساری قسمت کا بانی اور اُن کی تمام راحت کا مرکز تھا تو کل اور ایمان اور صبر کا یہ مقام دنیا کی بیمثال چیزوں میں سے ایک نہایت درخشاں نمونہ ہے۔مجھے اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ بے حد پیارا اور مضبوطی کے لحاظ سے گویا فولادی نوعیت کا قول یاد آرہا ہے جو آپ نے کامل توحید کا مظاہرہ کرتے ہوئے آنحضرت علی (فِدَاهُ نَفْسِی ) کی وفات پر فرمایا کہ: أَلَا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَلٌّ لَّا يَمُوتُ۔دو یعنی اے مسلمانو! اسنو کہ جو شخص محمد رسول اللہ کی پرستش کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں مگر جو شخص خدا کا پرستار ہے وہ یقین رکھے کہ خدا زندہ ہے اور اُس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔بس اس سے زیادہ میں اس وقت کچھ نہیں کہنا چاہتا۔وَاخِرُ دَعُونَا أَن الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - وَاللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ وَبَارِكُ وَسَلِّمُ خاکسار راقم آئم مرزا بشیر احمد ربوه