سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 318 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 318

318 حضرت اُم امومنین ادام اللہ فیوضہا کی آواز کا ریکارڈ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے مدظلہ العالی ) اس زمانہ کی بعض ایجاد میں اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہیں۔جن کے ذریعے کئی قسم کی علمی اور تاریخی اور جذباتی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ان میں سے ایک انسانی آواز کو محفوظ کرنے کی ایجاد ہے۔جو ریکارڈنگ مشین کے ذریعے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لی جاتی ہے۔اور پھر حسب ضرورت مشین کو چلا کرسنی جاسکتی ہے یہ ایک قسم کی ترقی یافتہ گراموفون ہے۔جو بجلی کے ذریعے کام کرتی ہے۔بعض مشینوں میں تار استعمال ہوتی ہے اور بعض میں ٹیپ یعنی فیتہ استعمال ہوتا ہے۔گذشتہ موسم سرما میں سید عبدالرحمن صاحب امریکہ سے ایک تار والی مشین اپنے ساتھ ربوہ لائے تھے۔اور میری تحریک پر انہوں نے سے فروری ۱۹۵۲ء کو حضرت اُم المومنین نور اللہ مرقدھا کی آواز محفوظ کی۔یہ ایک مختصر سا پیغام ہے۔جو حضرت اماں جان نے سوال وجواب کے رنگ میں جماعت کے نام دیا ہے۔سوال میری طرف سے میری آواز میں ہے اور جواب حضرت اماں جان کی طرف سے حضرت اماں جان کی آواز میں ہے۔میں اس سوال و جواب کو دوستوں کی اطلاع کیلئے درج ذیل کرتا ہوں یہ ریکارڈ امریکہ سے واپس آنے پر انشاء اللہ یہاں کے جلسہ مستورات میں سنایا جا سکے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے کہ حضرت اماں جان ادام اللہ فیوضہا کی وفات سے صرف دواڑھائی ماہ پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ مشین ربوہ پہنچا دی۔اور پھر اس مشین کے ذریعہ حضرت اماں جان کی آواز محفوظ کرنے کا خیال بھی آگیا۔بہر حال جن الفاظ میں آواز بھری گئی ہے وہ درج ذیل کئے جاتے ہیں : خاکسار مرزا بشیر احمد : اماں جان السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔حضرت اماں جان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ خاکسار مرزا بشیر احمد : آپ کی آواز جماعت برکت کے خیال سے محفوظ کرنا چاہتی ہے۔اگر آپ کی طبیعت