سیرت حضرت اماں جان — Page 263
263 حضرت مولوی محمد جی صاحب خلافت کا احترام اور محبت حضرت اماں جان اسلامی مساوات کا بہت خیال رکھا کرتی تھیں۔زائرات کو اپنی چار پائی اور پاس کے تخت پر بٹھا کر ہر ایک کے حالات دریافت فرما ہیں۔ہر زائرہ خیال کرتی کہ آپ کو اس سے زیادہ محبت ہے۔حضرت مولوی صاحب (خلیفہ اسیح الاول) نے آپ کو فرمایا ہوا تھا کہ صحت افزاء ہوا میں سیر کیا کریں اس مشورہ کی بناء پر ایک دومیل کا چکر آپ لگایا کرتی تھیں اور احمدیوں کے گھروں کو بھی مزید برکت بخشا کرتی تھیں۔سنت نبویہ علیہ کے مطابق بچوں سے پیار کرتیں اور خوش طبعی سے ان کو ہنسا تھیں۔جب حضرت مولوی صاحب (خلیفتہ المسیح الاول) نے مسندِ خلافت کو زینت دی تو اماں جان نے اطاعت کا قابل رشک نمونہ پیش کیا جس سے مولوی صاحب بہت متاثر ہوئے۔ایک دن صوفی غلام محمد صاحب امرتسری مغفور نے عرض کیا کہ لحاف قابل مرمت ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ بیوی صاحب ( یعنی حضرت اماں جان ) کے پاس بھیج دیں وہ درست کر دیں گی۔صوفی صاحب متردد سے ہو گئے۔آپ نے فرمایا۔مجھے انہوں نے کہا ہوا ہے کہ میں ان کو کام بتادیا کروں۔چنانچہ اماں جان نے لحاف درست کر کے بھجوادیے۔حضرت اماں جان کو حضرت خلیفہ اول نے کہا کہ آپ اپنی غیر احمدی رشتہ دار مستورات سے تعلق پیدا کریں (وہ مدت سے تعلق توڑ چکی تھیں ) آپ نے مشورہ دیا کہ پہلے آپ ان کے گھروں میں جائیں۔خدا تعالیٰ نے ان میں سے بہتوں کو احمدیت کی دولت عطا فرمائی۔۱۴۴ مکرم محموداحمد قریشی صاحب حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ کے دل میں حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بہت احترام تھا۔جب ان کا کوئی خادم دوائی لینے یا کسی دیگر غرض کے لئے آتا۔آپ سب کام چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہو جاتے۔آپ کے پاس جو تحائف آتے۔وہ اکثر حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی