سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 246 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 246

246 فرما ہوا کرتی تھیں۔اور نصیحت فرمایا کرتی تھیں کہ بیوی اور خاوند کو ایک دوسرے کی خوشی کا خیال رکھنا چاہیئے۔لباس کے پہنے ، کھانے پینے کی عادات اور اوقات تک کا خیال رکھنا چاہیئے۔بعض دفعہ ساتھ جو ساتھی عورتیں یا خادمات ہوتی تھیں۔ان کو کام میں مددکا حکم بھی دیتی تھیں اور میری بیوی ہاجرہ مرحومہ اکثر حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوتی رہتی تھی۔111 گھریلو کاموں میں جماعت کی مستورات کی رہنمائی از مکرم اخوند فیاض احمد صاحب ایک مرتبہ آپ ہمارے گھر تشریف لائی ہوئی تھیں اور خاکسار کی والدہ کے ساتھ کھڑی ہوکر ان کو کلف لگے اور چنے ہوئے دوپٹے کو تہہ کرنے کا ایسا طریقہ بتایا۔جس سے دوپٹے کی کلف اور شکن محفوظ رہتی ہیں۔ایک مرتبہ فرمایا کہ آجکل لڑکیاں کام نہیں کرتیں۔خاکسار کی والدہ صاحبہ نے عرض کیا۔ہمیں تو گھر میں بہت کام ہوتا ہے۔فرمانے لگیں کیا کام ہوتا ہے چند کپڑے سی لئے یا سلائیاں بن لیں لیکن پرانے زمانے میں تو عورتیں خود سوت چرنے پر کات کر کپڑا بنتی تھیں۔خود آٹا چکی پر پیس کر روٹی پکاتی تھیں گائے بھینس رکھتی تھیں دودھ بلوتی تھیں۔تم لوگ صرف چند کپڑے سی لینے اور چند سلائیاں بن لینے کو کافی کہتے ہو۔آپ نے ایک دفعہ والدہ صاحبہ کو ایک احمدی خاتون کا واقعہ سنایا کہ وہ کہتی ہے کہ میرے خاوند نے مجھے فلاں فلاں چیز نہیں لا کر دی۔پھر فرمایا کہ خاوندوں کو کیا پتہ کہ وہ اپنی بیویوں کو کیا لا کر د ہیں۔عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مردوں کو اپنی ضروریات بتایا کریں۔۱۱۸ از امتہ الحمید بیگم صاحبہ اہلیہ قاضی محمد رشید آف نوشہرہ میری اولاد زندہ نہیں رہتی تھی جس کا علم حضرت اماں جان کو بھی تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑی بچی صفیہ عطا کی اور میں اس کو لے کر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے بڑے لڑکے کی شادی کے موقع پر ان کے ہاں گئی وہاں حضرت اماں جان بھی تشریف لائی ہوئی تھیں۔آپ نے میری گود میں بچہ دیکھ کر فور پوچھا۔”لڑکا ہے یا لڑ کی ؟“ میرے بتانے پر کہ لڑکی ہے بہت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پنجابی زبان میں فرمایا۔شکر ہے نی گڑیے تینوں وی خدا نے دنیا نال رلایا