سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 228 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 228

228 فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں یہ دے آؤ مگر اپنی طرف سے دینا۔میرا نام درمیان میں نہ آئے ( حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں ) والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارہ کنایہ مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام نہ آئے اپنی طرف سے کچھ مددکروں سو میں کر دیا کرتی تھی۔۸۵ اس روایت سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے۔کہ کس طرح حضرت اُم المومنین کا دل ہر ایک کی ہمد در دی محبت اور خیر خواہی سے بھرا ہوا تھا۔کیا کسی عورت کے دل میں بھی اپنے سوت کے متعلق ہمدردی اور خیر خواہی کے وہ جذبات ہو سکتے ہیں جو حضرت اُم المومنین کے دل میں تھے؟ کوئی عورت بھی یہ نہیں چاہتی کہ اس کا خاوند دوسری شادی کرلے۔لیکن حضرت سیدۃ النساء محض خدا تعالیٰ کی رضا کو اپنے مد نظر رکھتی تھیں۔اس کے علاوہ اور کوئی جذبہ کبھی آپ پر تسلط نہیں پاسکتا تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کے متعلق پیشگوئی فرمائی تو حضرت اُم المومنین نے خدا تعالیٰ کے حضور روروکر دعائیں فرمائیں کہ الہی یہ پیشگوئی پوری ہو۔آپ نے بار ہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا کہ گومیری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے بگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے مونہہ کی با تیں پوری ہوں اور ان سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہو۔اور جھوٹ اور زوال کا بطلان ہو“۔ایک روز آپ دعا مانگ رہی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوچھا آپ کیا دعا مانگتی ہیں؟ آپ نے یہ بات سنائی کہ میں یہ مانگ رہی ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا۔سوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے؟ آپ نے فرمایا کچھ ہی کیوں نہ ہو مجھے اس کا پاس ہے کہ آپ کے منہ کی نکلی ہوئی باتیں پوری ہو جائیں خواہ میں ہلاک کیوں نہ ہو جاؤں‘۸۶