سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 201 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 201

201 میں مکھن ڈال کر بھجوا دیتی۔آپ بڑی خوشی کا اظہار فرماتیں۔۴۶ اہلیہ حضرت منشی کظیم الرحمن صاحب میرے والد صاحب منشی ظفر احمد صاحب مرحوم اور میرے پھوپھا صاحب منشی حبیب الرحمن صاحب حاجی پوری جب تک زندہ رہے جب بھی میں آپ کے پاس جاتی ان کی خیریت دریافت فرمایا کرتیں اور دونوں کے بچوں کی خیریت اور حالات دریافت فرمایا کرتیں۔اور دونوں کی اولاد کے متعلق دریافت فرمایا کرتیں۔سب احمدی ہیں اور یہ معلوم کر کے کہ سب احمدی ہیں بہت خوش ہوتیں۔میرے بڑے لڑکے لطیف الرحمن سلمہ کی جب شادی تھی۔میرے حاضر ہونے پر دریافت فرمایا کہ بری کیسی تیار کی ہے۔زیور کیا کیا بنایا ہے۔میں نے عرض کر دیا۔فرمایا۔مجھے بھی دکھانا۔چنانچہ لے کر گئی۔اماں جان نے بکس میں سے ہر ایک چیز ( کپڑ از یور ) کو اپنے دست مبارک سے اٹھا اٹھا کر دیکھا اور پھر خود ہی بکس میں رکھ کر انگشتری اپنی انگلی مبارک میں پہن کر دعا فرمائی۔میری درخواست پر شادی پر میرے گھر آنے کا ارادہ بڑی خوشی سے فرمایا۔لیکن جس روز رخصتا نہ تھا آپ کو اچانک دہلی سے تار آ جانے پر وہاں جانا ہو گیا۔لیکن جاتے ہوئے اپنی خاص خادمہ کے ذریعہ یہ پیغام بھجوا دیا۔کہ مجھے دہلی ایک تار کی بناء پر جانا ہو گیا ہے اس لئے میں شادی میں شامل نہیں ہوسکوں گی ہاں میں دعا کر چلی ہوں کہ تم ٹھنڈے ٹھنڈے اپنی بہو کو بیاہ کر گھر لاؤ۔حالانکہ اس روز سخت گرمی تھی۔لیکن جب ہم بیاہنے چلے تو خوب ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنی شروع ہوگئی اور کچھ ترشح بھی ہوا اور تین چار روز تک موسم خوب ٹھنڈا ر ہا۔میرے چھوٹے لڑکے لطف الرحمن سلمہ کی شادی فسادات کے بعد لاہور میں ۱۹۴۸ء میں ہوئی۔نکاح کے بعد آپ خود ہمارے مکان پر اچانک تشریف لے آئیں اور آکر لطف الرحمن کے والد صاحب کو فر مایا میں مبارکباد دینے آئی ہوں۔آپ کو مبارک ہو۔انہوں نے عرض کیا اماں جان آپ کو ہی مبارک ہو اور یہ سب مبارکبادیاں آپ کے لئے ہی ہیں۔بیٹھنے اور چاء کے لئے درخواست پر فرمایا میں صرف مبارکباد دینے آئی ہوں۔لطف الرحمن سلمہ کی دلہن کی انگشتری دعا کے لئے لے کر گئی تو اس کو اپنی انگلی مبارک میں پہن کر دعا فرمائی۔پھر شادی کے بعد دلہن کو لے کر گئی تو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور دلہن کو گلے سے