سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 184 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 184

184 ہوا۔اور اس قادر کریم ہستی کا شکر ادا کیا۔حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کا بچی کی علالت کا سن کر جلداز جلد غریب خانہ پر قدم رنجہ فرمانا انسانی ہمدردی کی ایک اعلیٰ ترین مثال ہے۔جو اس سیدۃ النساء کے شایانِ شان تھا۔اللہ تعالیٰ بے شمار رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل فرمائے۔( آمین )۲۳ خدام سے گہرا تعلق از مکر مہ امته الرحیم بنت حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی جن دنوں میں قادیان میں مقیم ہوئی اور میرے شوہر محترم بسلسلہ ملازمت عراق و ایران میں تھے تو خاکسارہ ان کے حالات سے حضرت مدوحہ کو باخبر رکھتی اور حضرت سیدۃ النساء بھی ہر وقت ان کی خیر و عافیت میں دلچسپی لیتیں اور دریافت حالات کرتی رہتیں۔جب ان کی واپسی کی اطلاع آتی تو جس دن انہوں نے واپس ہونا ہوتا کئی بار خادمات کو بھجواتیں کہ کیا مرزا صاحب آئے ہیں یا نہیں۔ان دنوں چونکہ قادیان میں ریل نہ آئی تھی اور ہمیں وقت کا علم نہ ہوتا تھا اس لئے دن میں کئی کئی بار حضور کی طرف سے خادمات آتیں اور حسب ہدایت پہلے خیریت سے واپسی کی اطلاع حاصل کرتیں اور پھر حضرت ممدوحہ کے ارشاد کے ماتحت مبارک باد در بیتیں۔جب قادیان میں ریل ۱۹۲۸ء میں آگئی تو اس وقت بھی ایسا ہی ہوتا اور گاڑی کے وقت سیدۃ النساء کی طرف سے خادمہ آکر دریافت کرتی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضرت مدوحہ کی سب توجہ اور تعلق میرے گھر سے ہی ہے۔اور یہ حال ہمارا ہی نہ تھا بلکہ حضرت ممدوحہ کا سینکڑوں ہزاروں دیگر خدام اور خادمات سے بھی ایسا ہی سلوک تھا۔ہر ایک کے دکھ درد میں برابر بلکہ زیادہ کی شریک تھیں۔۲۴ حضرت سیدۃ النساء اپنے خدام کی ہر جائز طریق پر دلجوئی فرمایا کرتی تھیں۔ان کے آرام اور سہولت کا بھی خیال رکھتیں۔کئی دفعہ حضرت اماں جان خاندان کی مستورات کے ساتھ قادرآباد بھی تشریف لے جایا کرتی تھیں۔رستہ میں ہمارے مکان میں بنفس نفیس خود کئی بار اندر داخل ہو کر آواز دیا کرتیں ” لڑکیو آؤ۔اس طرح میں اور میری بھا وجہ مرحومہ ساتھ ہولیتیں اور بعض دفعہ خادمہ کو حکم دیتیں کہ بھائی جی کی لڑکی اور بہو کو بلا لو۔خاندان کی شہزادیاں ورزش کی غرض سے ٹینس