سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 179 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 179

غریب نوازی اور حسنِ انداز تربیت 179 مکرمہ حمیده صابرہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب۔ربوہ میں جب تک آپ کی صحت نے اجازت دی آپ گھر سے باہر تشریف لے جاتیں اور غریبوں کے کچے گھروں کو اپنے قدموں سے برکت دیتیں۔ایک دن میرے گھر تشریف لائیں۔دروازے میں آواز دی ”بیٹی کیا کر رہی ہو؟ میں دوڑ کر باہر نکلی اور آپ کو کمرہ میں لے آئی۔نصرت گرلز سکول میں اکثر دفعہ تشریف لائیں۔تھوڑی دیر ٹھہر تھیں اور پھر واپس تشریف لے جاتیں۔ایک دن باتوں باتوں میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔دھوبی کو کپڑے دینے سے پہلے دیکھ لیا کرو کہ کہیں سے کپڑا پھٹا ہوا تو نہیں۔اسی طرح پہننے سے پہلے بھی۔اس پر ایک لطیفہ سنایا کہ کس طرح ایک آدمی کو اس بے احتیاطی پر خفت اٹھانی پڑی۔اکثر ذہانت ٹیسٹ کرنے کے لئے پہیلیاں سناتیں۔اور اُن کا مطلب پوچھتیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کے آخری ایام میں بھی مجھے حقیر کوحضرت اماں جان کی خدمت کا موقع بخشا میں گھنٹہ آدھ گھنٹہ کے لئے آپ کے کمرہ میں جاتی ، پنکھا کرتی۔ہاتھ رشی ہلانے میں مصروف رہتے اور نگاہیں اُس پیارے اور مبارک چہرہ پر مرکوز ہوتیں اور زبان درود شریف پڑھنے میں۔اے ام المومنین ! تجھ پر لاکھوں سلام اور درود۔کا از مکر مہ اہلیہ صاحبہ مولوی محمد یعقوب صاحب انچارج شعبہ زود نویسی۔حضرت اماں جان کی صحت جب تک اچھی رہی آپ اکثر سیر کے اوقات میں اپنے خدام کے گھروں کو اپنی تشریف آوری سے بابرکت کیا کرتی تھیں۔اسی معمول کے مطابق آپ ہمارے ہاں اکثر تشریف لاتیں اور گھر کے ہر چھوٹے بڑے فرد کی خیریت دریافت فرماتیں۔آپ کا حافظہ اس بارہ میں نہایت ہی اچھا تھا اور جماعت کے افراد کے ہزاروں ہزار نام آپ کو یاد تھے۔اکثر خاندانوں کی مستورات اور ان کی لڑکیوں تک کے نام یاد تھے۔اور جب ملتیں تو نام لے کر ہر ایک کی خیریت دریافت فرما تیں۔قادیان میں جب ہمارے والد صاحب ( حضرت مرزا محمد اشرف صاحب مرحوم سابق محاسب و