سیرت حضرت اماں جان — Page 153
153 کیا۔وہاں پر والدہ صاحبہ نے اماں جان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔انہوں نے امتہ النصیر صاحبہ سے کہا ” ان لوگوں کو اماں جان کے پاس لے جاؤ“ وہ ہم لوگوں کو زینہ سے نیچے لے جانے لگیں۔سیٹرھیاں جہاں تک یاد ہے۔تختہ کی تھیں۔اس لئے میں آہستہ آہستہ اتر نے لگی۔مبادا ٹوٹ نہ جائیں۔اس وقت میں کوئی دس سال کی تھی۔ادھر امتہ النصیر صاحبہ والدہ صاحبہ کے ساتھ غائب تھیں۔گھبراہٹ میں جو نیچے اتری تو دیکھا بہت سی عورتیں ایک کمرے کی طرف جارہی تھیں۔اور کچھ نکل بھی رہی تھیں۔قرین قیاس میں نے سمجھا کہ والدہ بھی ادھر ہی ہوں گی۔ادھر ہی چل پڑی۔مگر کمرہ کے دروازہ پر ہی کوئی منتظمہ تعینات تھیں۔انہوں نے اندر جانے سے روک دیا۔شاید بچہ سمجھ کر۔میں نے اندر جھانک کر دیکھا۔جو ابھی تک اسی طرح میری آنکھوں کے سامنے ہے۔اللہ اللہ ! کیا نظارہ تھا۔حضرت اماں جان تکیہ کا سہارا لئے ہوئے پلنگ پر نیم دراز تھیں۔اور مسکراہٹ وشفقت کے ساتھ ہر ایک کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ان کا وہ روشن پر جلال اور دلکش مسکراتا ہوا چہرہ اُسی طرح مجھے نظر آتا ہے۔مگر یہ سب کچھ صرف چند لمحوں میں دیکھا۔شاید اس دن ان کی طبیعت کچھ نا ساز تھی۔اس لئے ملنے والوں کو صرف چند منٹ کا عرصہ ہی دیا جاتا تھا۔لوٹتے وقت میرا دل مسرتوں سے پُر تھا۔کیوں آج تک میں نے ایسا روشن اور پر جلال چہرہ کسی عورت کا نہ دیکھا تھا۔آج بھی اس جھلکی ملاقات کو یاد کر کے مجھے فخر اور مسرت ہوتی ہے۔مگر دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔آج اُم المومنین کا وہ عظیم الشان با برکت وجود ہم میں نہیں۔۲۳ تاثرات و واقعات مکرم حکیم عبد اللطیف صاحب شاہد آف گوالمنڈی لاہور تحریر کرتے ہیں: (1) خاکسار کے حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے دونوں محترم برادران کے ساتھ خادمانہ تعلقات