سیرت حضرت اماں جان — Page 152
152 ہجرت والا الهام ضرور پورا ہونا تھا۔پھر قادیان کے دوبارہ مل جانے کا بھی الہام انشاء اللہ ضرور پورا ہوگا۔اماں جان مستجاب الدعوات بھی تھیں اور میں نے اسے بہت دفعہ آزمایا۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم مغفور ہمیشہ آپ کو دعا کیلئے لکھتے رہتے اور القاب ہمیشہ ” نہایت تعظیمی سیدہ ام “ لکھتے۔حضرت خلیفہ اول مولانا نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی بے حد عزت کرتے۔یہ میرے سامنے کی باتیں ہیں۔تینتالیس چوالیس سال ان کی صحبت مقدسہ میں گزرے واقعات تو حد سے زائد ہیں مگر اخبار میں گنجائش کہاں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کو تو اپنی آغوش رحمت میں لے لیا اور وہ ضرور جنت کے اعلیٰ طبقوں میں مسرور ہوں گی۔۲۲ سیدۃ النساء کی ایک جھلک مکرمه ومحتر مہ امتہ السلام تبسم بنارس تحریر کرتی ہیں: ۲۳ اپریل ۱۹۵۲ء کی شام ہم لوگوں کے لئے ایک صدمہ عظیم کی خبر لائی۔عصر کی نماز ادا کر کے میں تختہ سے اُٹھی ہی کہ ہماری عزیز ترین بہن اور فرینڈ سید نسرین بھاگلپوری کا خط ملا۔جس میں صرف حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے انتقال پر ملال کی خبر تھی۔آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔یا میرے اللہ۔یہ کیا ہوا! کیا جماعت ایک بزرگ ہستی کی دعاؤں سے محروم ہوگئی ؟ کیا اک پاک ہستی کا بابرکت وجود ہم سے چھن گیا۔آہ! کس قلم سے لکھوں! کس زبان سے کہوں کہ ہماری جماعت اک مشفق ماں ! اک مادر مہرباں کی عنایات سے محروم ہو گئی۔حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا بے حد روحانی اور اخلاقی صلاحیت کا مجسمہ تھیں۔خاکسار نے آپ کو صرف ایک بار دیکھا تھا۔بلکہ صرف ایک جھلک دیکھی تھی۔۱۹۴۵ء کے جلسہ سالانہ پر عاجز بھی والدین کے ساتھ گئی تھی۔پہلے دن جلسہ سے لوٹ کر والدہ صاحبہ حضرت اماں جان سے شرف ملاقات حاصل کرنے گئیں۔مجھ کو حضرت اماں جان کو دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔والدہ صاحبہ زینہ پر سے ہوتی ہو ئیں اوپر چھت پر آئیں۔جہاں پر آپا محمودہ آنے والوں کا پُر جوش استقبال کر رہی تھیں۔اخیر میں ہم لوگ آپا بشری کے پاس پہنچے۔انہوں نے بھی بڑی محبت ومسرت کے ساتھ استقبال