سیرت حضرت اماں جان — Page 151
151 پر دریاں بچھا کر درختوں کے نیچے کوئی ہمیں پچیس خواتین کو دعوت کھلائی۔لڑکیاں پینگیں جھولتی کھیلاتی رہیں۔الغرض اماں جان کا مزاج شگفتہ اور تفریح پسند بھی تھا۔یتامی پروری ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اماں جان کسی چھوٹے گاؤں کی طرف نکلیں تو ساتھ دونوں خادمائیں ہی تھیں (امام بی اور مائی فجو ابھی مائی کا کونہیں تھیں) جب ایک گلی میں گاؤں کی گزرے تو دیکھا ایک گندی چیتھڑوں میں لپٹی لڑکی لیٹی ہے اور خربوزوں کے گندے چھلکے منہ میں ڈال رہی ہے۔آپ نے اس کے پاس ٹھہر کر پوچھا یہ کون ہے۔گاؤں کی چند عورتوں نے بتایا کہ اس کے ماں باپ مرگئے تھے اور یہ گونگی بہری ہے۔آپ نے ایک خادمہ کو حکم دیا کہ اسے اسی طرح لے چلو۔وہ ہوگی کوئی چھ سات سال کی۔بات کرنی نہیں آتی تھی۔تو آپ اسے قادیان دارالامان اپنے ساتھ لے آئیں۔اس وقت ہمارا گرل سکول آپ کے ہی دالان کے نیچے لگتا تھا ہم مدرستہ البنات میں بیٹھی تھیں کہ دیکھا ایک ہیبت ناک شکل وصورت کی لڑکی نہایت غلیظ اور گندے چیتھڑے پہنے جن سے بد بو کے بھبھکے نکل رہے تھے بیٹھی ہے۔کئی لڑکیاں تو ڈر کے مارے بھاگنے لگیں مگر اتنے میں ہماری بابرکت اور پاکیزہ اماں جان ڈیوڑھی سے نمودار ہوئیں اور خوف زدہ فضاء کو دیکھ کر ہنسیں۔پھر فرمایا یہ یتیم لڑکی ہے اور لاوارث ہے اسے انسان بنانا تمہارا کام ہے اور اس کا نام نہیمی بلایا۔یہ فرما کر اوپر سیٹرھیوں پر چڑھ گئیں۔کچھ دیر کے بعد فینائل کی بوتل کنگھا قینچی کپڑوں کا جوڑا جوتی تیل وغیرہ آگئے۔اور کنواں تو پاس ہی تھا۔استانی میمونہ صوفیہ ہی مستعد خاتون نے ایک آدھ گھنٹہ میں اس گندی لڑکی کو نہلا دھلا کر صاف ستھری لڑکی بنادیا۔کھانا کھلایا اور وہ کچھ دنوں میں ہی اماں جان کی مہربانی سے ایک اچھی خاصی لڑکی بن گئی۔چند سالوں کے بعد وہ شادی شدہ رحیم بی بی کہلاتی زبان سے الفاظ صحیح نہیں نکال سکتی تھی۔تا ہم کام چلا لیتی۔اماں جان زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھیں مگر دنیاوی علوم کی بھی میری کئی اردو زبان کی غلطیاں نکالیں اور صحیح تلفظ سکھایا اور دینی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مسلک یا احمدیت میں تو ایسی ماہر تھیں کہ ہم سی خاکپاؤں کے دماغ اماں جان کے سامنے بیچ تھے۔اور حضور علیہ السلام کی سب پیشگوئیوں پر اماں جان کا یقین محکم اور پختہ ایمان تھا۔ہجرت کے بعد آپ اکثر فرماتی تھیں داغ