سیرت حضرت اماں جان — Page 135
135 کے وقت میری بیوی نے درخواست کی کہ حضور میں نے بیت الدعا میں دعا کرنی ہے۔آپ نے اجازت دے دی۔جب دعا سے فارغ ہو کر وہ نکلیں چونکہ انہوں نے نہایت تضرع سے دیر تک دعا کی تھی۔ان کی آنکھوں پر ورم معلوم ہوتی تھی۔آپ نے دیکھ کر فرمایا۔کیوں اس قدر گھبراہٹ ہے۔اس نے عرض کیا حضور بڑا فکر ہے۔حضور بھی ان کے لئے دعا فرماویں (میرے خاوند کے لئے ) آپ نے فرمایا۔دعا۔دعا کرتی ہے۔میں پنجتن کی بجائے چھ تین کے لئے دعا کرتی ہوں۔( جس کا مطلب یہ تھا کہ میں اپنے پانچوں بچوں کے ساتھ چھٹا اس کو شامل کرتی ہوں ) میری لڑکی سعیدہ بیگم سولہ سالہ سنور میں فوت ہو گئی اور مجھے یہ بتایا گیا کہ اس نے وصیت کی ہوئی ہے۔میں نے اس کی نعش کو امانتا صندوق میں دفن کرا دیا۔چھ سات ماہ کے بعد قادیان آتے ہوئے وہ صندوق اپنے ہمراہ لایا۔قادیان میں سید سرور شاہ صاحب مرحوم سے جو افسر بہشتی مقبرہ تھے۔درخواست کی۔انہوں نے دفتر سے معلوم کر کے بتایا کہ اس کی یہاں کوئی وصیت نہیں ہے۔میں نے اپنی ہمشیرہ سے جو قادیان میں رہتی تھی دریافت کیا۔کہ فارم وصیت پچھلا ہمارے پاس موجود ہے۔مگر وہ پیش نہیں کیا۔کہ آپ کے آنے پر پیش کریں گے مگر معلوم نہ تھا کہ اس کی وفات ہو جائے گی۔میں نے وہ فارم مولوی صاحب کو دکھایا۔انہوں نے جواب دیا کہ جب تک دو موصی مؤكد بعذاب قسم کھا کر بیان نہ کریں کہ ہمارے سامنے اس نے وصیت کی ہے اس وقت تک یہ وصیت منظور نہیں ہوسکتی۔میں حیران تھا۔میں نے حضرت اُم المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضور دعا کریں کہ سعیدہ کے متعلق یہ جھگڑا ہے۔آپ نے فرمایا ذرا ٹھہریں۔آپ اندر تشریف لے گئیں اور ایک پرچہ مولوی سرور شاہ صاحب کے نام تحریر فرما کر مجھے دے دیا جس میں یہ درج تھا کہ مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کی صاحبزادی سعیدہ مرحومہ نے مجھ سے ذکر کیا تھا کہ میں نے وصیت کر دی ہے میں وہ پر چہ لے کر مولوی صاحب کے پاس گیا اور انہوں نے نعش کو بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا۔میرے خسر میاں کریم بخش صاحب مرحوم نمبر دار رائے پور ریاست نابھہ قادیان آئے تھے اور مجھ سے یہ درخواست کی تھی۔کہ میری لڑکی کو جو آپ کی اہلیہ ہے۔ہمارے ساتھ قادیان بھیج دیں ہم ایک مہینہ تک واپس آجائیں گے۔قریباً دو ماہ گزر گئے۔وہ واپس نہ ہوئے۔میں نے خط کے ذریعہ ان کی اطلاع دی کہ مہینہ کی بجائے دو مہینے ہوتے ہیں۔آپ میری اہلیہ کو واپس بھجوا دیں۔