سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 121 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 121

121 تاثرات جناب چوہدری عبداللہ خان صاحب (امیر جماعت احمدیہ کراچی نے حضرت اُم المومنین کی اندوہناک وفات کی خبر سن کر تا ثیر احمدی صاحب سے ملاقات کے دوران میں مندرجہ ذیل تاثرات کا اظہار فرمایا ) حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہمیشہ مجھ سے احسان و شفقت کا سلوک فرمایا میری بیوی اور بچوں سے بہت محبت فرماتی تھیں اور مختلف طریقوں سے عنایات فرماتی تھیں۔۱۹۳۲ء میں گورداسپور ہمارے پاس تشریف لائیں۔گو میر امکان شہر گورداسپور سے ایک ملحقہ بستی میں تھا اور راستہ بھی صاف نہیں تھا۔مکان بھی کسی رنگ میں ان کے قیام کے قابل نہ تھا۔لیکن آپ نے کئی دن قیام فرمایا اور با وجود یہ کہ ہم کسی خدمت کے قابل نہ تھے آپ بہت خوش رہیں۔اسی طرح جب مرزا عزیز احمد صاحب قصور میں مجسٹریٹ تھے اور یہ عاجز بھی وہاں ملازم تھا۔آپ حضرت مرز اصاحب کے موصوف کے ہاں تشریف لائیں اور ہمیں اپنی محبت شفقت اور احسانات وعنایات میں برابر شریک فرماتی رہیں۔میری کسی قسم کی ترقی کی اطلاع سے ہمیشہ بہت خوش ہوتیں اور میری کسی رنگ کی تکلیف کی اطلاع ہونے پر ہمیشہ دریافت فرمایا کرتی تھیں اور دعا فرمایا کرتی تھیں اللهم ارفع درجتها في جنته الاعلے آمین۔۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۶ء تک میں ٹانگ کی بیماری میں مبتلا تھا اور آخری چار پانچ سال چلنے پھرنے میں بہت زیادہ تکلیف ہوتی تھی۔بالآخر ۱۹۴۶ء اپریل میں بھائی جان چودھری ظفر اللہ خان سلمہ اللہ تعالیٰ مجھے انگلستان لے گئے لنڈن میں میرا اپریشن کروایا ( فجزا الله احسن الجزاء) الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم کے ساتھ مجھے صحت بخشی اور اکتوبر میں خاکسار ہندوستان کے لئے صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب جو ان دنوں انگلستان تشریف لے گئے ہوئے تھے کے ہمراہ واپس ہوا۔۲۶ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو اس عاجز نے دارالامان پہنچتے ہی مسجد مبارک میں دو نفل شکرانہ ادا کئے۔ابھی میں التحیات میں بیٹھا تھا کہ کسی خادمہ کی آواز سنائی دی کہ عبداللہ خاں کہاں ہے۔اماں جان ان سے ملنے کے لئے کھڑی ہیں اور بلوارہی ہیں۔وہ خادمہ مجھے پہچانتی نہیں تھی