سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 108 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 108

108 کے دونوں صحنوں میں سے ہوتا تھا۔الغرض مجھے خادم اور ہمسایہ ہونے کا حق میسر آیا۔میں نے اس طویل زمانہ میں آں سیدہ سے کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی کہ جس کی وجہ سے میرے دل کو تکلیف پہنچی ہو۔اس کے برخلاف آں سیدہ سے اکثر مشفقانہ سلوک کا مشاہدہ کیا۔اں سیدہ نے بارہا ایسا فرمایا کہ فلاں چیز ڈاکٹر صاحب کے ہاں دے آؤ کیونکہ وہ بھی تو ہمارے خاندان کا حصہ ہیں آں سیدہ کا قاعدہ تھا کہ جب کبھی کوئی خاص وجہ ہوتی یا دل چاہتا تو اپنی بہوؤں کے ہاں کا پکا ہوا کھانا منگوا لیتیں اسی دستور کے مطابق میرے ہاں بھی یہ کہ کر منگوا لیتیں کہ یہ گھر بھی تو ہمارا ہی ہے اب ایسے پُر شفقت سلوک کی موجودگی میں کس طرح ممکن ہے کہ آپ کے اوصاف حمیدہ کے گیت نہ گائے جائیں اور آپ پر بے شمار درود نہ بھیجے جائیں۔میں نے بارہا دیکھا کہ میری بیوی بصد خوشی فوری طور پر جو کچھ ہوتا حضرت اماں جان کی خدمت میں بھجوا دیتیں اور کئی بار جب کوئی چیز اچھی پک جاتی تو از خود ہی حضرت اماں جان کی خدمت میں بھیج دیتیں اور اماں جان نہایت خندہ پیشانی سے جزاکم اللہ کہتے ہوئے اس چیز کو رکھ لیتیں۔اگر کبھی کسی موقعہ پر آں سیدہ کو کسی غلط فہمی کی وجہ سے یا میری کوتاہی کی وجہ سے ملال پیدا ہوا تو میں نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ وہ صرف اُسی لمحہ کے لئے تھا اور بس حضور کے دل میں کوئی جذبہ انتقام یا جذ بہ مخالفت جگہ نہ پکڑتا تھا۔میں نے آں سیدہ کو ہمیشہ صاف اور سیدھی اور حق بات کرتے پایا کبھی بھی کوئی پیچیدہ بات کرتے نہیں پایا اور کبھی بھی منصوبہ بندی کی بات کرتے نہیں پایا اور نہ کسی کی غیبت میں اس کے خلاف شکوہ شکایت کا باب کھولتے دیکھا۔دعا گوئی ، ذکر الہی مجھے آں سیدہ کی علالت کے وقت کئی بار علاج کی غرض سے سیدہ کے پاس جانا ہوتا تھا یا پھر کسی عزیز کو دیکھنے کے وقت آں سیدہ اس جگہ ہوتی تھیں تو اکثر انہیں یا حی یا قیوم پڑھتے سنا۔اور کئی بار آں سیدہ کی معیت میں موٹر کا سفر کیا ہے تو دیکھا کہ جب موٹر چلنے لگتی تو سبـــحـــان الــذى سخر لنا هذا والی دعا بالالتزام پڑھتیں۔