سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 74 of 315

سیرت طیبہ — Page 74

۷۴ اپنی مصیبت کا ذکر لے کر آتا تھا حضرت اماں جان اپنے مقدور سے بڑھ کر اس کی امداد فرماتی تھیں اور کئی دفعہ ایسے خفیہ رنگ میں مدد کرتی تھیں کہ کسی اور کو پتہ تک نہیں چلتا تھا۔اسی ذیل میں ان کا یہ بھی طریق تھا کہ بعض اوقات یتیم بچوں اور بچیوں کو اپنے مکان پر بلا کر کھانا کھلاتی تھیں اور بعض اوقات ان کے گھروں پر بھی کھانا بھجوادیتی تھیں۔ایک دفعہ ایک واقف کار شخص سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کو کسی ایسے شخص (احمدی یا غیر احمدی یا غیر مسلم ) کا علم ہے جو قرض کی وجہ سے قید بھگت رہا ہو ( اوائل زمانے میں ایسے سول (CIVIL) قیدی بھی ہوا کرتے تھے ) اور جب اس نے لاعلمی کا اظہار کیا تو فرمایا کہ تلاش کرنا میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں تا قرآن مجید کے اس حکم پر عمل کر سکوں کہ معذور قیدیوں کی مدد بھی کار ثواب ہے۔قرض مانگنے والوں کو فراخ دلی کے ساتھ قرض بھی دیتی تھیں مگر یہ دیکھ لیتی تھیں کہ قرض مانگنے والا کوئی ایسا شخص تو نہیں جو عادی طور پر قرض مانگا کرتا ہے اور پھر قرض کی رقم واپس نہیں کیا کرتا۔ایسے شخص کو قرض دینے سے پر ہیز کرتی تھیں تا کہ اس کی یہ بری عادت ترقی نہ کرے مگر ایسے شخص کو بھی حسب گنجائش امداد دے دیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ میرے سامنے ایک عورت نے ان سے کچھ قرض مانگا۔اس وقت اتفاق سے حضرت اماں جان کے پاس اس قرض کی گنجائش نہیں تھی۔مجھ سے فرمانے لگیں میاں ! ( وہ اپنے بچوں کو اکثر میاں کہہ کر پکارتی تھیں ) تمہارے پاس اتنی رقم ہو تو اسے قرض دے دو۔یہ عورت لین دین میں صاف ہے۔چنانچہ میں نے مطلوبہ رقم دے دی اور پھر اس غریب عورت نے تنگ دستی کے باوجود عین وقت پر اپنا قرضہ واپس کر دیا جو آج کل کے اکثر نو جوانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے۔