سیرت طیبہ — Page 73
۷۳ ہے کہ۔یہ وہی جذبہ ہے جس کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر فرمایا تری رحمت ہے میرے گھر کا شہتیر مری جاں تیرے فضلوں کی پند گیر (۴) جماعتی چندوں میں بھی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا بڑے ذوق وشوق سے حصہ لیتی تھیں اور تبلیغ اسلام کے کام میں ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر چندہ دیتی تھیں۔تحریک جدید کا چندہ جس سے بیرونی ممالک میں اشاعت اسلام کا کام سر انجام پاتا ہے اس کے اعلان کے لئے ہمیشہ ہمہ تن منتظر رہتی تھیں اور اعلان ہوتے ہی بلا توقف اپنا وعدہ لکھا دیتی تھیں بلکہ وعدہ کے ساتھ ہی نقد ادا ئیگی بھی کر دیتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ زندگی کا اعتبار نہیں۔وعدہ جب تک ادا نہ ہو جائے دل پر بوجھ رہتا ہے۔دوسرے چندوں میں بھی یہی ذوق وشوق کا عالم تھا۔(۵) صدقہ و خیرات اور غریبوں کی امداد بھی حضرت اماں جان نَوَّرَ اللَّهُ مَرْ قَدَهَا کا نمایاں خلق تھا اور اس میں وہ خاص لذت پاتی تھیں اور اس کثرت کے ساتھ غریبوں کی امداد کرتی تھیں کہ یہ کثرت بہت کم لوگوں میں دیکھی گئی ہے۔جو شخص بھی ان کے پاس