سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 66 of 315

سیرت طیبہ — Page 66

۶۶ الغرض حضرت مسیح موعود کا وجود ایک مجسم رحمت تھا۔وہ رحمت تھا اپنے عزیزوں کے لئے اور رحمت تھا اپنے دوستوں کے لئے اور رحمت تھا اپنے دشمنوں کے لئے ، اور رحمت تھا اپنے ہمسائیوں کے لئے اور رحمت تھا اپنے خادموں کے لئے اور رحمت تھا سائلوں کے لئے اور رحمت تھا عامتہ الناس کے لئے اور دنیا کا کوئی چھوٹا یا بڑا طبقہ ایسا نہیں ہے جس کے لئے اس نے رحمت اور شفقت کے پھول نہ بکھیرے ہوں۔بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ وہ رحمت تھا اسلام کے لئے جس کی خدمت اور اشاعت کے لئے اس نے انتہائی فدائیت کے رنگ میں اپنی زندگی کی ہر گھڑی اور اپنی جان تک قربان کر رکھی تھی۔(IA) بالآخر ایک جامع نوٹ پر اپنے اس مقالہ کو ختم کرتا ہوں۔ہمارے بڑے ماموں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم نے میری تحریک پر حضرت مسیح موعود کے اخلاق و اوصاف کے متعلق ایک مضمون لکھا تھا۔اس مضمون میں وہ فرماتے ہیں:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت رؤوف و رحیم تھے سخی تھے مہمان نواز تھے اشجع الناس تھے ابتلاؤں کے وقت جبکہ لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے آپ شیر نر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔عفو، چشم پوشی ، فیاضی ، خاکساری ، وفاداری ، سادگی عشق الہی ، محبت رسول، ادب بزرگان دین ، ایفاء عہد ،حسن معاشرت ، وقار، غیرت، ہمت، اولوالعزمی، خوش روئی اور کشادہ پیشانی آپ