سیرت طیبہ — Page 309
عظیم الشان تبدیلی پیدا کر دیتی ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے خدا کی طرف سے فتح اور غلبہ کی عظیم الشان بشارتوں کے باوجود ظاہری تدبیر کے ماتحت اسلام کی خدمت کے لئے اتنی قربانیاں کیں کہ دنیا کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔اسی طرح جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آئندہ ہونے والے غیر معمولی تغیرات اور اسلام واحمدیت کے عالمگیر غلبہ کی پیشگوئی فرمائی ہے وہاں حضور نے اپنی جماعت کو بھی زبر دست تحریک کے ذریعہ ہوشیار کیا ہے کہ اس الہی تقدیر کے پیچھے اپنی تدبیر کے گھوڑے ڈال دو اور پھر خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اُس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو پہلے وقتوں میں آچکا ہے اور وہ آفتاب اپنے پورے کمال کے ساتھ پھر چڑھے گا جیسا کہ پہلے چڑھ چکا ہے۔لیکن ابھی ایسا نہیں۔ضرور ہے کہ آسمان اُسے چڑھنے سے روکے رہے جب تک کہ محنت اور جانفشانی سے ہمارے جگر خون نہ ہو جائیں اور ہم (اپنے ) سارے آراموں کو اُس کے ظہور کے لئے نہ کھو دیں اور اعزاز اسلام کے لیے ساری ذلتیں قبول نہ کرلیں۔اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ (فدیہ ) کیا ہے؟ ہمارا اسی راہ میں مرنا۔یہی موت ہے جس پر اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلی موقوف ہے۔“ فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱،۱۰)