سیرت طیبہ — Page 308
۳۰۸ (۲۴) یہ سب کچھ جو ابھی بیان کیا گیا ہے خدائے عرش نے حضرت مسیح موعود علیہ السلا کو الہاماً بتایا اور حضور نے دنیا پر ظاہر فرمایا اور وہ اپنے وقت پر پورا ہوگا اور ضرور ہوگا اور یہ ایک اٹل آسمانی تقدیر ہے جس کی تمام نبی اور تمام آسمانی پیغامبر اپنے اپنے وقت میں خبر دیتے آئے ہیں اور ہمارے آقا حضرت سرور کائنات صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ (فَدَاهُ رُوحِي وَ جَنَانِي ) نے خاص طور پر خدا کی قسم کھا کر خبر دی تھی کہ مہدی اور مسیح کے ظہور سے آخری زمانہ میں اسلام کے دوسرے اور دائمی غلبہ کا دور آئے گا اور صلیبی عقائد اور صلیبی طاقتوں کا ہمیشہ کے لئے زور ٹوٹ جائے گا اور ایک نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان۔مگر یہ بھی خدا کا ہی بنایا ہوا از لی قانون ہے کہ اُس نے ہرامر میں کامیابی کے لئے تقدیر اور تدبیر کا مخلوط اور مشتر کہ نظام قائم کر رکھا ہے۔تقدیر خدا کی مشیت اور خدا کے حکم کے ماتحت آسمان کی بلندیوں سے نازل ہوتی ہے اور اس کی تاریں فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں جو خدا کے حکم سے پردہ غیب میں رہتے ہوئے خدائی نظام کو چلاتے ہیں۔اور تدبیر کی تاریں خدائے علیم وحکیم نے بندوں کے ہاتھ میں دے رکھی ہیں۔چنانچہ جب کسی مامور ومرسل کے ذریعہ دنیا میں کوئی نیا نظام قائم ہوتا ہے تو مومنوں کا گروہ خدا کی انگلی کو دیکھ کر اس کی تقدیر کے حق میں اپنی تدبیروں کو حرکت دینا شروع کر دیتا ہے۔اور پھر یہ دونوں حرکتیں مل کر دنیا میں ایک