سیرت طیبہ — Page 27
۲۷ ہوگی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک ممتاز حواری حضرت مولوی نور الدین صاحب کو جو بعد میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ اول ہوئے بہت سے احمدیوں کے ساتھ لاہور روانہ کیا اور ان کے ہاتھ ایک مضمون لکھ کر بھیجا جس میں اسلام کے محاسن بڑی خوبی کے ساتھ اور بڑے دلکش رنگ میں بیان کئے گئے تھے۔مگر جب آریہ صاحبان کی طرف سے مضمون پڑھنے والے کی باری آئی تو اس بندہ خدا نے اپنی قوم کے وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مضمون میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اتنا ز ہرا گلا اور ایسا گند اچھالا کہ خدا کی پناہ۔جب اس جلسہ کی اطلاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچی اور جلسہ میں شرکت کرنے والے احباب قادیان واپس آئے تو آپ حضرت مولوی نور الدین صاحب اور دوسرے احمدیوں پر سخت ناراض ہوئے اور بار بار جوش کے ساتھ فرمایا کہ جس مجلس میں ہمارے رسول اللہ کو برا بھلا کہا گیا اور گالیاں دی گئیں تم اس مجلس میں کیوں بیٹھے رہے؟ اور کیوں نہ فورا اٹھ کر باہر چلے آئے ؟ تمہاری غیرت نے کس طرح برداشت کیا کہ تمہارے آقا کو گالیاں دی گئیں اور تم خاموش بیٹھے سنتے رہے؟ اور پھر آپ نے بڑے جوش کے ساتھ یہ قرآنی آیت پڑھی کہ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِه (النساء : ۱۴۱) ( یعنی اے مومنو! ) جب تم سنو کہ خدا کی آیات کا دل آزار رنگ میں کفر کیا جاتا اور ان پر ہنسی اڑائی جاتی ہے تو تم ایسی مجلس سے فوراً اٹھ جایا کرو تا وقتیکہ یہ لوگ کسی مہذبانہ انداز گفتگو کو اختیار کریں۔“