سیرت طیبہ — Page 272
۲۷۲ گیا اور چونکہ اس کمرے کے باہر کھڑ کی کھلی تھی اور اُس کھڑکی میں سے ہمارے چچا یعنی حضرت مسیح موعود کے چچا زاد بھائی مرزا نظام الدین صاحب کا مکان نظر آرہا تھا میں نے کسی بات کے تعلق میں اپنے ساتھ والے لڑکے سے کہا کہ ”دیکھو وہ نظام الدین کا مکان ہے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے یہ الفاظ کسی طرح سن لئے اور جھٹ پلٹ کر مجھے نصیحت کے رنگ میں ٹوک کر فرمایا کہ ”میاں آخر وہ تمہارا چا ہے اس طرح نام نہیں لیا کرتے۔“ (سیرت المہدی روایت نمبر ۳۸ حصہ اول صفحه ۲۸) جیسا کہ میں دوسری جگہ بیان کر چکا ہوں مرز انظام الدین صاحب ہمارے چچا ہونے کے باوجود حضرت مسیح موعود کے اشد ترین مخالف بلکہ معاند تھے۔اور اس مخالفت کی وجہ سے اُن کا ہمارے ساتھ کسی قسم کا تعلق اور راہ و رسم نہیں تھا اور اسی بے تعلقی کے نتیجہ میں میرے منہ سے بچپن کی بے احتیاطی میں یہ الفاظ انکل گئے مگر حضرت مسیح موعود کے اخلاق فاضلہ کا یہ عالم تھا کہ آپ نے مجھے فورا ٹوکا اور تربیت کے خیال سے نصیحت فرمائی کہ اپنے چچا کا نام اس طرح نہیں لیا کرتے اور آج تک میرے دل میں حضور کی یہ نصیحت ایک آہنی میخ کی طرح پیوست ہے اور اس کے بعد میں نے کبھی اپنے کسی بزرگ کا نام تو در کنار کسی خورد کا نام بھی ایسے رنگ میں نہیں لیا جس میں کسی نوع کی تحقیر کا شائبہ پایا جائے۔ہمارے دوستوں کو چاہیئے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کے حالات اور اقوال کا بڑی توجہ کے ساتھ جائزہ لیتے رہیں اور جہاں بھی وہ دیکھیں کہ ان کے اخلاق و عادات میں کوئی بات اسلام اور احمدیت کی تعلیم یا آداب کے