سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 254 of 315

سیرت طیبہ — Page 254

۲۵۴ گئیں اور جھوٹے مقدمات کھڑے کئے گئے اور حکومت کو آپ کے متعلق بدظن کرنے کی تدبیریں بھی کی گئیں اور آپ کے ماننے والوں کو انتہائی تکالیف کا نشانہ بھی بنایا گیا مگر آپ نے نہ صرف اپنے عزیزوں اور دوستوں اور ہمسایوں کے لئے اور نہ صرف حکومت کے لئے جس کے آپ اسلامی تعلیم کے مطابق کامل طور پر وفادار تھے بلکہ اپنے جانی دشمنوں کے لئے بھی اپنی فطری رحمت کا ثبوت دیا اور اپنی جمالی شان کا ایسے رنگ میں مظاہرہ کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔(^) میں نے اپنی ایک گزشتہ تقریر میں بیان کیا تھا کہ کس طرح کابل کے سابق حکمران امیر حبیب اللہ خان نے اپنے ملک کے ایک بہت بڑے رئیس اور پاک فطرت نیک بزرگ کو جنہوں نے اس کی تاج پوشی کی رسم ادا کی تھی حضرت مسیح موعود کو قبول کرنے پر زمین میں گاڑ کر بڑی بے رحمی سے سنگسار کر دیا تھا۔اور اس عاشق مسیح کی روح آخر تک یہی پکارتی رہی کہ جس صداقت کو میں نے خدا کی طرف سے حق سمجھ کر پہچان لیا ہے اسے دنیا کی ادنی زندگی کی خاطر کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔جب صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب شہید کے قتل کا حکم دینے والا امیر حبیب اللہ خان اس واقعہ کے بعد انگریزی حکومت کا مہمان بن کر ہندوستان آیا تو اخباروں میں یہ خبر چھپی کہ بعض اوقات امیر حبیب اللہ خان بوٹ پہنے ہوئے مسجد کے اندر چلا گیا اور اسی حالت