سیرت طیبہ — Page 234
۲۳۴ تحقیقاتوں پر مشتمل ہے اور انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ ہوکر بیرونی ممالک میں پہنچ چکا ہے۔یہ تقریر بھی خدا کے فضل سے پہلی تقریر کی طرح بہت مقبول ہوئی اور اپنوں اور بیگانوں دونوں نے اسے پسند کیا۔تیسری تقریر ۱۹۶۱ء کے جلسہ سالانہ میں ہوئی جو در مکنون کے نام سے چھپی ہے اور انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ انگریزی ترجمہ انشاء اللہ بہت جلد رسالہ کی صورت میں شائع ہو جائے گا۔اس تقریر میں زیادہ تر حضرت مسیح موعود کے معجزات اور حضور کے ہاتھ پر غلبہ اسلام اور دعاؤں کی قبولیت کا ذکر ہے اور الحمد للہ کہ یہ تقریر بھی خدا کے فضل سے مقبول ہوئی اور میں امید کرتا ہوں کہ میرا آسمانی آقا مجھے ان تقریروں کے ثواب سے نوازے گا اور جماعت کے لئے بھی انہیں برکت و رحمت کا موجب بنائے گا۔موجودہ تقریر اس سلسلہ کی چوتھی تقریر ہے۔میں نے اس تقریر کا نام ” آئینہ جمال رکھا ہے۔کیونکہ میرا ارادہ ہے کہ اس میں زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کی جمالی شان اور اس کے مختلف پہلوؤں کے متعلق کچھ بیان کروں۔وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيمٍ - عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ -