سیرت طیبہ — Page 233
۲۳۳ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْد أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ وَبَارِك وَسَلِّمُ۔دوستو! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ مجھے اس سال پھر ذکرِ حبیب یعنی حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کے خاص خاص حالات اور نشانات اور اخلاق فاضلہ کے مضمون پر تقریر کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔اس سے قبل اسی مضمون پر خدا کے فضل سے میری تعین تقریریں ہو چکی ہیں۔پہلی تقریر ۱۹۵۹ء کے جلسہ سالانہ میں ہوئی تھی جو کے نام سے چھپ چکی ہے اور انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ ہو چکا ہے اس تقریر کا مرکزی نقطہ محبت الہی اور عشق رسول تھا۔خدا کے فضل سے یہ تقریر جماعت کے دوستوں اور غیر از جماعت اصحاب میں یکساں مقبول ہوئی کیونکہ اس کے لفظ لفظ میں حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کی عاشقی شان ہویدا ہے۔دوسری تقریر ۱۹۶۰ء کے جلسہ سالانہ میں ہوئی تھی جو در منثور کے نام سے چھپ چکی ہے اور بہت دلچسپ اور دلکش روایات اور بعض نئی