سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 225 of 315

سیرت طیبہ — Page 225

۲۲۵ اور اس کے اندر ہمیشہ ایسے صالح اور پاکباز لوگ پیدا ہوتے رہیں جو دعاؤں کی قبولیت کے ذریعہ جماعت میں روحانیت کو زندہ اور مذاہب کی کشمکش میں اسلام کو غالب رکھیں۔اے خدا تو ایسا ہی کر ! (٢٠) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت کے نشان تو بے شمار ہیں جن کے ذکر سے آپ کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور ہزاروں لاکھوں لوگ ان کے گواہ ہیں۔مگر میں اس جگہ صرف ایک مزید واقعہ کے ذکر پر اکتفا کرتا ہوں۔میں اپنی گذشتہ سال کی تقریر میں بیان کر چکا ہوں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات ہوئی تو اس وقت حضور کا گھر روپے پیسے سے بالکل خالی تھا۔اور حضور اپنا آخری روپیہ بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کے ذریعہ اس گاڑی بان کو دے چکے تھے جس کی گاڑی میں حضور وفات سے قبل شام کے وقت ئیر کے لئے تشریف لے گئے تھے (در منثور روایت نمبر ۲۹ )۔اس کے بعد اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور حضور کا یہ الہام پورا ہوا کہ الرَّحِيْلُ ثُمَّ الرَّحِيْلُ - یعنی ” اب کوچ کا وقت آ گیا ہے۔کوچ کا وقت آگیا ہے“ اور اس کے ساتھ ہی یہ الہام بھی ہوا کہ ڈرومت مومنو! یعنی اے احمد یو! ہمارے مسیح کی وفات سے جماعت کو طبعاً سخت دھنگا پہنچےگا مگر تم ڈرنا نہیں اور خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھنا پھر انشاء اللہ سب خیر ہے۔