سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 226 of 315

سیرت طیبہ — Page 226

۲۲۶ اس کے بعد جب ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو صبح دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات ہوئی تو جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس وقت ہمارا گھر دنیوی مال وزر کے لحاظ سے بالکل خالی تھا۔ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ کی روایت ہے (اور یہ بات مجھے خود بھی مجمل طور پر یاد ہے ) کہ ہماری اماں جان یعنی حضرت امّم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے اس وقت یا اس کے تھوڑی دیر بعد اپنے بچوں کو جمع کیا اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے انہیں ان نہ بھولنے والے الفاظ میں نصیحت فرمائی کہ بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے۔انہوں نے آسمان پر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔“ (روایات نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ) یہ کوئی معمولی رسی تسلی نہیں تھی جو انتہائی پریشانی کے وقت میں نم رسیدہ بچوں کو ان کی والدہ کی طرف سے دی گئی بلکہ یہ ایک خدائی آواز اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شاندار الہام کی گونج تھی کہ آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ۔یعنی ” کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ؟ اور پھر اس وقت سے لیکر آج تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں نے ہمارا اس طرح ساتھ دیا ہے اور اللہ کا فضل اس طرح ہمارے شاملِ حال رہا ہے کہ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہر بال ہو جائے سخن ور تو پھر بھی شکر ہے امکاں سے باہر حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں ہماری دستگیری فرمائی ہے اس کی